پاکستان سے خوفزدہ بھارت نے مٹھائیوں کے نام بھی بدل ڈالے "میسورپاک "کا نام تبدیل
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)پاکستان سے خوفزدہ بھارت اب اپنی مٹھائیوں کے نام بھی تبدیل کرنے پر مجبور ہوگیا۔ بھارت کی مشہور تاریخٰ مٹھائی ’میسور پاک‘ کا نام تبدیل کرنے پر اس کے مؤجد کے پوتے سیخ پا پوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی شہروں میں میسور پاک کا نام بدلنے پر تنازعہ ہوگیا جس کے بعد میسور کی تاریخی مٹھائی کے وارثان نے مودی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔
گزشتہ ماہ پہلگام حملے کے باعث بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے بعد جے پور کے کئی مشہور مٹھائی کے دکانداروں نے اپنی اشیاء کے نام تبدیل کر دیے ہیں۔
اس تبدیلی میں تاریخی میسور پاک کا نام بھی شامل ہے، جسے اب ”میسور شری“ کے نام سے بیچا جا رہا ہے۔ اس اقدام پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔
میسور پاک کے موجد بادشاہ کرشنراجا وڈیئر چہارم کے دور میں میسور محل کے باورچی خانہ کے شاہی باورچی کاکاسورا ماداپا کے پڑ پوتے نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں:ہر ی مرچوں کی جلن سے ہاتھوں کوکیسے بچائیں؟
رپورٹ کے مطابق میسور مٹھائی کے معروف شیف ایس نتراج نے میڈیا کو بتایا کہ اسے میسور پاک ہی کہیں،
ہمارے آباواجداد کی اس ایجاد کا کوئی اور نام نہیں ہو سکتا، انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہر تاریخی مقام یا روایت کا اپنا درست نام ہوتا ہے، اس طرح میسور پاک کا بھی ہے۔
شیف ایس نتراج نے مٹھائی کے نام کی اصل تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ کنناڈا زبان میں ’پاکاا‘ (Paaka) کا مطلب ہے شکر کا شربت ہے۔
یہ شربت میسور میں بنایا گیا تھا، اس لیے اسے میسور پاک کہا جاتا ہے، اس کا کوئی اور نام رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔