منصوبہ سازکہتے ہیں جو 2024 میں ہوا تھا وہی 2029 میں ہو گا،جمہوریت قائم رکھنےکیلئےقوم باہر نکلے؛سلمان اکرم راجہ  

Jan 26, 2026 | 18:37:PM
منصوبہ سازکہتے ہیں جو 2024 میں ہوا تھا وہی 2029 میں ہو گا،جمہوریت قائم رکھنےکیلئےقوم باہر نکلے؛سلمان اکرم راجہ  
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ منصوبہ ساز دعویٰ کر رہے ہیں کہ جو کچھ 2024 میں ہوا وہی 2029 میں بھی ہو گا،ملک میں جمہوریت کو قائم رکھنا ہے تو قوم کو 8 فروری کو باہر نکلنا ہو گا۔

پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اجلاس انتہائی خوشگوار اور اہم تھا، جس میں شوکت بسرا، اپوزیشن لیڈر معین قریشی اور دیگر رہنما موجود تھے،انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو ان عناصر کو یاد دلایا جائے گا جنہوں نے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ 8 فروری اور اس کے بعد ووٹرز اور سپورٹرز کو مکمل طور پر متحرک کیا جائے گا،یہ جنگ عمران خان، عدلیہ کی آزادی اور عوام کے ووٹ کی عزت کی جنگ ہے جس میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین سال سے معیشت کی بہتری کے جھوٹے دعوے کیے جا رہے ہیں،صنعتیں بند ہو رہی ہیں، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور سرمایہ کار پاکستان چھوڑ کر جا رہے ہیں،ملک میں قانون کی عملداری نہیں اور ووٹ کی کوئی عزت باقی نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہر گلی کوچے میں آواز بلند کی جائے گی اور ہر کارکن اپنے ووٹ کے لیے کھڑا ہو گا، پنجاب کے ارکان اسمبلی شدید دباؤ اور مبینہ فسطائیت کے باوجود عوام کے ساتھ کھڑے ہیں  جس کا سامنا کسی شریف آدمی کے لیے آسان نہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ راجہ ناصر عباس نے بھی کہا ہے کہ عمران خان کا پیغام لے کر آگے بڑھیں گےاور آج کیے گئے فیصلوں کے نتائج وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے،انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو متحرک کیا جائے گا اور انقلاب قوم خود برپا کرے گی۔

سلمان اکرم راجہ نے معین قریشی پر مبینہ حملے اور 8 کروڑ 40 لاکھ روپے ہرجانے کے مقدمے کو آواز دبانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست کا جواب سیاست سے دینا چاہیے اور اس جھوٹے مقدمے کو فوری واپس لیا جائے۔

ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو جس طرح جھوٹی ایف آئی آر درج کے گرفتار کیا گیا،ہم نے اب اس جھوٹ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے،ہمارا سارا نظام جبر کے سامنے سر نگوں ہے،27ویں ترمیم کا یہی مقصد تھا،ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لئے جنگ لڑنی ہے، پنجاب کے اور سندھ کے حالات بدل رہے ہیں،ہمیں سندھ میں ایک موقع ملا تھا عوام کے ساتھ ملنے کا،اس کے بعد ہمیں باغ جناح سمیت کہیں بھی نہیں جانے دیا گیا،ہم نے جو کیا ہے وہ اپنے حق کے مطابق کیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ عوام باہر نہیں نکلے گی تو یہ سلسلہ بند نہیں ہو گا،یہ جنگ عوام نے لڑنی ہے کوئی گاڑی نہیں آئے گی نہ کوئی گھنٹی بجائے گا،انقلاب تب آتے ہیں جب قومیں اپنی عزت کے لیے کھڑی ہوتی ہیں،اس قوم کا شعور زندہ ہے، ہمارے اراکین اسمبلی اس قوم کے ساتھ کھڑے ہیں،ہر سطح پر ہم آواز بلند کریں گے اور یہ جنگ جیتیں گے،میں نے 2029 کے حوالے سے منصوبہ سازوں کے پروگرام کی بات کی ہے،ہم ایسا کوئی نتیجہ نہیں لیں گے ہم عوام کے ووٹ کے ساتھ اقتدار کریں گے۔ 

سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ کل سے لے کر 8 فروری تک ہم آپ کو متحرک نظر آئیں گے ،8 فروری کو ٹرانسپورٹرز سے کہیں گے گاڑیاں نہ چلائیں،آسمان 804 نمبر کی پتنگوں سے بھرا ہوا ہو گا،لاہور اس فسطائیت کا بھر پور جواب دے گا،ہمیں کہا جا رہا ہے کہ باقی سب بھول کر 2029 کے حوالے سے بات کرے لیکن عمران خان سے ملاقات ہو جوڈیشل کمیشن بنانے کی بات ہو تو کہتے ہیں پوچھ کر بتائیں گے،ہم یہ بات نہیں کریں گے کسی مٹی ڈالنی ہے اور کیسے منظور نظر ہونا ہے،ہم فوری الیکشن مانگ رہے ہیں جس میں عوام کو آزادی ہو،ان کا کہنا تھاکہ اگر کوئی جج سچ کے ساتھ کھڑا ہو گا اس کو نشان عبرت بنانے کا پیغام دیا گیاہے۔

سلمان اکرم راجہ کا مزیدکہنا تھا کہ ہر جگہ ہمارے لیڈر آف اپوزیشن کو سزائیں دی،اب یہ بولنے کے اوپر بھی پابندی لگانا چاہتے ہیں،حق سچ کی بات کو اگر کوئی صحافی کہیں پہنچا نہیں سکتا تو دل سے تو مانے،پنجاب اسمبلی میں بیٹ رپورٹرز کو بھی داخلے کی اجازت نہیں تو سو لوگ کیسے اندر داخل ہو گئے۔