’’زنگ‘‘ نے چاند کو بھی نہ چھوڑا، سائنسدان حیران

Sep 25, 2025 | 12:37:PM
’’زنگ‘‘ نے چاند کو بھی نہ چھوڑا، سائنسدان حیران
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)سائنسدانوں نے چاند کی سطح پر ہیماٹائٹ (آئرن آکسائیڈ یا زنگ) کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے، خاص طور پر قطبین کے علاقوں میں، یہ دریافت سائنسدانوں کے لیے حیران کن تھی کیونکہ زنگ لگنے کے عمل کے لیے عام طور پر آکسیجن اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے، جو چاند پر نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ماکاؤ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہر سیاروں کے مطابق، یہ دریافت چاند اور زمین کے درمیان گہرا تعلق سمجھنے میں مددگار ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین کے ماحول سے آکسیجن چاند تک پہنچتی ہے، سورج سے آنے والے چارج شدہ ذرات (solar particles) زمین اور چاند تک پہنچتے ہیں، لیکن جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آتی ہے، سورج کی ہوا بلاک ہو جاتی ہے، اس دوران چاند کو زیادہ تر وہ ذرات ملتے ہیں جو زمین کے ماحول سے خارج ہوئے ہیں، جسے Earth wnd کہا جاتا ہے،یہ عمل سورج کی ہوا کی مداخلت کو کم کرتا ہے اور آکسیڈیشن یا زنگ لگنے کے عمل کو ممکن بناتا ہے۔

سائنسدانوں نے زمین کی ہوا کی نقل کرتے ہوئے لیبارٹری میں تجربات کیے، انہوں نے ہائی انرجی ہائیڈروجن اور آکسیجن آئنز کو چاند پر موجود لوہے والے معدنیات کے سنگل کرسٹل پر بھیجا، نتیجہ حیران کن تھا: کچھ کرسٹل ہیماٹائٹ میں تبدیل ہو گئے، مزید تجربات سے پتہ چلا کہ ہائیڈروجن کی بمباری سے ہیماٹائٹ دوبارہ لوہے میں بدل سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:دفتر میں نیند آنے کی 8 وجوہات اور حل

شوائی لی، یونیورسٹی آف ہوائی سے، جنہوں نے 2020 میں اس دریافت کی قیادت کی تھی، نے کہا ، ’ یہ تجربہ چاند پر زنگ لگنے کے عمل کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔’

ہیماٹائٹ کی موجودگی مستقبل کے چاندی مشنز کے لیے اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ چاند پر زنگ لگنا طویل مدتی قیام کے لیے آلات اور وسائل کی تیاری کو متاثر کر سکتا ہے،سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چاند پر زنگ کے عمل کو سمجھنا مستقبل کے چاند کے مشنز، وسائل کے استعمال اور آلات کے ڈیزائن کے لیے اہم ہے۔

تحقیق میں کہا گیا،’یہ دریافت چاند پر ہیماٹائٹ کی وسیع تقسیم اور زمین و چاند کے درمیان طویل مدتی مواد کے تبادلے کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے۔