کفایت شعاری مہم:ورک فرام ہوم، سندھ کابینہ کا 3 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں پر عمل کر رہی ہے اور مزید اہم فیصلے بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ موجودہ صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
شرجیل انعام میمن نے کفایت شعاری سے متعلق متعدد اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایندھن کی کمی روکنے کے لیے وفاقی حکومت جو بھی فیصلے کرے گی، ان پر لبیک کہا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کے پیش نظر سندھ کابینہ نے 3 ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ ایندھن کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلوں کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھی جائے گی، اگر وفاقی حکومت لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرتی ہے تو سندھ حکومت اس پر بھی مکمل طور پر عمل کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین اور آسٹریلیا آزاد تجارتی معاہدے پر متفق
انہوں نے کہا کہ عوامی ضروریات اور ایندھن کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں،جب تک حالات مکمل طور پر قابو میں نہیں آتے تب تک یہ اقدامات جاری رہیں گے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال سے بچنا ضروری ہے جس میں ایندھن اور توانائی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے، اسی لیے سندھ حکومت کے فیصلے کے تحت سرکاری گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ایندھن کی بچت اور ممکنہ مہنگائی کو روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت کو مزید تعاون درکار ہوا تو سندھ حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر ممکن ہو تو گھروں سے کام کریں کیونکہ یہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ سب کا مشترکہ مسئلہ ہے ، عوام کے تعاون سے ہی ایندھن کی بچت اور توانائی کے ذخائر کا تحفظ ممکن ہے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ اپنی ناکامی کو معاہدہ نہ کہیں:پاسداران انقلاب نے مذاکرات کے دعوے مسترد کردئیے
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر تمام فیصلے کیے جا رہے ہیں،حکومت کی اولین ترجیح قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور ایندھن کی کمی کو ہر صورت روکنا ہے،اس کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔