نثار حویلی میں ذوالجناح کی ماتم و گریہ کی صداؤں کے درمیان برآمدگی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) لاہور میں نثار حویلی سے ذوالجناح کا جلوس برآمد ہو گیا ہے۔
ذوالجناح کی برآمدگی سے پہلے علامہ امجد علی عابدی اور ان سے پہلے سید مزین عباس کاظمی نے مصائب پڑھے۔ اس سے پہلے متعدد سوز خواں سوز و سلام پیش کرتے رہے اور علما و ذاکرین نے فرات کے کنارے پیاسے رہنے والےقافلہَ کرب و بلا میں شامل بچوں، خواتین اور جوانوں کو پیش آنے والے المناک واقعات کا تذکرہ کیا اور شہادت تک ثابت قدم رہنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
لاہور کی نثار حویلی (اندرون موچی گیٹ) میں شبِ عاشور کی مجالس کا ایک مخصوص روایتی طریقہ کار اور شیڈول ہے، جس کے مطابق مندرجہ ذیل ترتیب سے عزاداری انجام پا رہی ہے۔

سوز و سلام (ابتدائی وقت)
مجلس کے آغاز میں لاہور کے معروف اور خاندانی سوز خوان حضرات نے قدیم روایت پر عمل کرتے ہوئے میر انیس، مرزا دبیر اور دیگر قدیم شعرا کے لکھے ہوئے تواریخی سوز، سلام اور مرثیے پیش کئے۔ شہدائے کربلا کے حضور میں سوز و سلام پیش کرنے والوں میں احسن علی ۔فائق علی نقوی ۔ فواد بٹ ۔کمیل جعفری ۔ استاد منصور احمد نمایاں تھے۔
فضائل و مصائب (مرکزی مجالس)
نثار حویلی کی منبر پر ملک کے جید اور ممتاز علمائے کرام اور ذاکرینِ ہمیشہ کی طرح آج شب بھی موجود رہے۔ علما نے فضائلِ اہلبیتؑ بیان کئے اور ذاکروں نے امام مظلم کے قافلہ میں شریک مردوں، خواتین اور بچوں کو پیش آنے والے مصائب اختصار کے ساتھ بیان کئے۔ نصف شب ذوالجناح کی برآمدگی سے پہلے مجلس کا آخری مرحلہ اب شروع ہوا تو نثار حویلی کے اندر اور باہر گلیوں مین دور تک ہزاروں ماتم دار گریہ کر رہے تھے۔ اس مرحلہ میں صرف امام مظلوم علیہ السلام اور ان کے باوفا اصحاب کے مصائب بیان کرتے ہوئے شور ماتم برپا کیا گیا اور اسہی گریہ و زاری کے دوران اما بارگاہ سے ذوالجناح برآمد ہوئے۔
جلوس کے اہم مراحل
یہ جلوس نثار حویلی سے برآمد ہو کر ان روایتی مقامات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بارہ سے زیادہ امام بارگاہوں میں پرسہ دینے ک والے ہزاروں سوگواروں سے پرسہ لینے کے بعد جلوس اندرون موچی دروازہ محلہ شیعاں میں آگے بڑھ کر بازار کشمیریاں پہنچے گا۔
اذانِ علی اکبرؑ
فجر کسے پہلے ذوالجناح کا یہ جلوس اندرونِ شہر کی مسجد کشمیریاں (محلہ شیعاں) پہنچے گا، جہاں شہزادہ علی اکبرؑ کی یاد میں فجر کی اذان دی جائے گی۔
اذان عرلی اکبر کی آواز بلند ہوتے ہی بازار مین زنجیروں کا ماتم آغاز ہو جائے گا جو تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد ذوالجناح کا جلوس سست رفتار کے ساتھ آگے بڑھنا شروع ہو گا۔
نمازِ ظہرین
دن کے وقت ذوالجناح کا جلوس رنگ محل پہنچے گا جہاں جلوس میں شام عزادار ظہرین باجماعت ادا کریں گے۔
اختتام
یہ طویل جلوس دسویں محرم کو مغرب سے پہلے بھاٹی دروازہ سے باہر نکلے گا اور بھاٹی چوک عبور کر کے کربلا گامے شاہ پہنچے گا۔کربلا گامے شاہ کے دروازے سے پہلے سڑک پر آخری پرسہ داری ہو گی جس مین ماتم گساروں کی کثیر تعداد شریک ہو گی۔مغربین کی اذان کے لگ بھگ ذوالجناح کا گزشتہ شب سڑک پر آنے والا جلوس کربلا گامے شاہ کے اندر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگا۔

نماز اور لنگر کے بعد مجلسِ شامِ غریباں برپا کی جائے گی۔ اس آخری مجلس میں امام مظلوم علیہ السلام اور ان کےجاں نثار مردوں کے شہید ہونے کے بعد بیبیوں اور بچوں کو پیش آنے والے حالات، اور مصئاب بیان کئے جائیں گے۔
اگر آپ بالکل لائیو اپڈیٹ جاننا چاہتے ہیں کہ اس وقت منبر پر کون موجود ہے، تو آپ مقامی حسینیہ میڈیا چینلز (جیسے مہر ٹی وی، ہادی ٹی وی، یا لاہور عزاداری کے مقامی فیس بک پیچز اور لائیو اسٹریمنگ) کا رخ کر سکتے ہیں جہاں نثار حویلی کی مجلس براہِ راست دکھائی جا رہی ہوتی ہے۔