فنانس بل 2026-27: کاروباری برادری کی تجاویز پر اہم پیش رفت، ٹیکس اصلاحات منظور

Jun 25, 2026 | 12:48:PM
فنانس بل 2026-27: کاروباری برادری کی تجاویز پر اہم پیش رفت، ٹیکس اصلاحات منظور
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احسن عباسی)وفاقی حکومت نے فنانس بل 2026-27 میں کاروباری برادری اور چیمبرز کی متعدد اہم تجاویز کو جزوی اور مکمل طور پر منظور کرتے ہوئے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی سمت اہم پیشرفت کی ہے، ان اقدامات کا مقصد سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری لاگت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کو بہتر بنانا قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کی سپر ٹیکس کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز کو جزوی طور پر منظور کیا گیا ہے، 10 کروڑ روپے تک آمدن رکھنے والے کاروباروں پر سپر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

فنانس بل میں خوراک اور ڈیری سیکٹر سے متعلق بھی اہم فیصلے شامل کیے گئے ہیں، ڈیری اور غذائی مصنوعات کو تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی ہے جس کے تحت دودھ، کم چکنائی والا دودھ اور بچوں کی غذائی مصنوعات کو ٹیکس سہولت فراہم کی گئی ہے۔

انکم ٹیکس کے حوالے سے بھی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں تنخواہ دار طبقے کے لیے قابلِ ٹیکس حد بڑھانے کی تجویز کو جزوی طور پر منظور کیا گیا ہے تاہم زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح برقرار رکھی گئی ہے۔

مزید برآں بیرونِ ملک اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی ہے اور اس حوالے سے فنانس بل میں متعلقہ شق شامل کر دی گئی ہے۔

سیلز ٹیکس نظام میں سیکشن بی 8 کے حوالے سے 100 فیصد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی تجویز کو جزوی منظوری دی گئی ہے تاہم حکومت نے سیکشن بی 8 برقرار رکھتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو نرمی دینے کا اختیار دے دیا ہے۔

تمباکو سے متعلق قوانین میں بھی سختی کی گئی ہے، جس کے تحت ضبط شدہ تمباکو مصنوعات کی لازمی تلفی اور غیر ٹیکس شدہ تمباکو و مشروبات کی ضبطی اور تلفی کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر فنانس بل 2026-27 میں کاروباری برادری کی متعدد تجاویز شامل کی گئی ہیں، جنہیں ماہرین معیشت کے مطابق ٹیکس نظام میں آسانی اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔