پاکستان کی اولین ترجیح عوام کا تحفظ، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع ہے، اسحاق ڈار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(انور عباس)نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہاکہ پاکستان کی اولین ترجیح اپنے عوام کا تحفظ، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع ہے، ان کاکہناتھا کہ ہم اپنے خطے میں درپیش چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہیں، اشتعال انگیزیوں کے باوجود ہم امن، مکالمے اور سفارت کاری کیلئے پُرعزم ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان گورننس فورم 2026 بعنوان “بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں بین الاقوامی تعلقات کی رہنمائی” کا انعقاد کیا گیا،نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے پاکستان گورننس فورم 2026 سے خطاب کیا۔
نائب وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی بصیرت افروز قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، ان کی راہنمائی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، پاکستانی خارجہ پالیسی نے اسٹریٹجک شراکت داریوں کو مضبوط بنایا اور عالمی سطح پر پاکستان کا کردار مؤثر کیا۔
نائب وزیراعظم کاکہناتھا کہ عالمی تعلقات اس وقت ایک اہم اور تبدیلی کے دور سے گزر رہے ہیں، عالمی نظام، ادارے اور اتحاد ازسرِنو تشکیل پا رہے ہیں، دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام تیزی سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، اب کثیر القطبی نظام اور جغرافیائی سیاسی مسابقت ابھر رہی ہے، اس نئے عالمی منظرنامے میں چیلنجز بھی ہیں اور مواقع بھی۔
اسحاق ڈار کاکہناتھا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ان حالات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے، پاکستان کی اولین ترجیح اپنے عوام کا تحفظ، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع ہے، ان کاکہناتھا کہ ہم اپنے خطے میں درپیش چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہیں، اشتعال انگیزیوں کے باوجود ہم امن، مکالمے اور سفارت کاری کیلئے پُرعزم ہیں۔
نائب وزیراعظم کاکہناتھا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ خطے کے عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے،پاکستان اقوامِ متحدہ قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق منصفانہ حل کا مطالبہ کرتا ہے، انہوں نے کہاکہ پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے، پاکستان کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کاکہناتھا کہ موجودہ عالمی نظام میں دوطرفہ اور محدود شراکت داریوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے، پاکستان نے ترجیحی شعبوں میں موزوں تعاون پر توجہ دی ہے، چین کے ساتھ ہمارا آل ویدر اسٹریٹجک شراکت داری مزید مستحکم ہو رہی ہے، اس میں سی پیک 2.0، اسٹریٹجک مکالمہ اور باہمی تعاون شامل ہے۔
اسحاق ڈار کاکہناتھا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بھی نئی جہت دی گئی ہے، اس میں تجارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون شامل ہے، جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا گیا ہے، چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سہہ فریقی تعاون کا آغاز ہوا ہے، مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ کیا گیا ہے، دیگر عرب ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری و توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا گیا ہے، ترکیہ، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اعلیٰ سطح سفارت کاری کے ذریعے تعلقات کو مزید مستحکم بنایا گیا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہاکہ وژن ایسٹ ایشیا پالیسی کے تحت آسیان ممالک کے ساتھ روابط میں اضافہ کیا گیا ہے، اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ تاریخی تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں، اعلیٰ سطح اور ذاتی سفارت کاری نے کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے، ان کا کہناتھا کہ پاکستان کا اقوامِ متحدہ۔سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونا عالمی اعتماد کا مظہر ہے، جہاں پاکستان امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے سرگرم ہے، پاکستان نے غزہ کی صورتحال پر مؤثر آواز اٹھائی، پاکستان نے غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد اور دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے۔
اسحاق ڈار کا کہناتھا کہ ایران سے متعلق امور میں پاکستان تعمیری کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان۔کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہے، ان کاکہناتھا کہ اقتصادی سفارت کاری حکومت کی خارجہ پالیسی کا مرکزی ستون ہے، اس میں صنعت، آئی ٹی، معدنیات اور زرعی شعبہ شامل ہیں، خارجہ پالیسی کے اہداف کے حصول کے لیے حکومتی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے، پاکستان عالمی ماحولیاتی اقدامات میں فعال کردار ادا کر رہا ہے،پاکستان خصوصی طور پر ماحولیاتی مالی معاونت اور نقصانات کے ازالے کے حوالے سے کردار ادا کر رہا ہے، انہوں نے کہاکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درج ذیل نکات پر مبنی رہے گی، پاکستانی خارجہ پالیسی قومی مفادات کا پُرامن ذرائع سے تحفظ، اقتصادی و اسٹریٹجک شراکت داریوں کے فروغ پر مبنی ہے، پاکستانی خارجہ پالیسی اعلیٰ سطح اور قیادت پر مبنی سفارت کاری پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:رمضان پیکج: 12500 کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے؟