کن کُتّوں کو اب تاحیات ’’جیل‘‘ ہوگی!
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) آوارہ کتوں کی وجہ سے سگ گزیدی کے واقعات بڑھ گئے ہیں جس کی روک تھام کیلیے کتوں کو تاحیات قید کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش ریاست کے شہر کانپور میں میونسپل کارپوریشن نے عوام کو آوارہ اور خطرناک کتوں کے کاٹے جانے سے بچانے کے لیے اہم منصوبہ بنایا ہے،اس منصوبے کے تحت وہ کتے جنہوں نے لوگوں کو دو یا دو سے زائد بار کاٹا ہوگا۔ انہیں تاحیات قید میں رکھا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق ایسے آوارہ کتوں کا ٹھکانہ کشن پور کا شیلٹر ہوم ہوگیا، جہاں وہ آخری سانس تک رہیں گے۔ اس شیلٹر ہوم میں کھانے اور پانی کی فراہمی کے ساتھ مکمل دیکھ بھال بھی کی جائے گی۔
اس منصوبے میں پاگل کتوں کے لیے بھی علیحدہ انتظامات کیے گئے ہیں۔ مذکورہ اینیمل برتھ کنٹرول اے بی سی سینٹر میں اس وقت پانچ کتے موجود ہیں جب کہ پہلے مرحلے میں 50 کتوں کے پالنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب کانپور میونسپل کارپوریشن کے جاری اعداد وشمار کے مطابق شہر میں اس وقت تقریباً سوا لاکھ کتے ہیں اور اب تک 35 ہزار کے لگ بھگ کتوں کی نس بندی کی جا چکی ہے۔
چیف ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر آر کے نرنجن نے کہا کہ اگر کتا کسی شخص کو کاٹ لے تو اسے پکڑ لیا جائے گا، نس بندی کی جائے گی اور پھر 10 دن تک نگرانی میں رکھا جائے گا۔ اگر تحقیقات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کتا نہ تو پاگل ہے اور نہ ہی ریبیز میں مبتلا ہے تو اسے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اسی جگہ چھوڑ دیا جائے گا جہاں اسے پکڑا گیا تھا۔
ڈاکٹر آر کے نرنجن نے کہا کہ اگر کوئی اس طرح کے کتے کو گود لینا چاہتا ہے تو اسے ایک حلف نامہ دینا ہوگا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ کتے کی ساری زندگی اس کی دیکھ بھال کریں گے اگر کوئی آگے نہ آیا تو ایسے کتوں کو ہمیشہ کے لیے اے بی سی سینٹر میں رکھا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور میونسپل اداروں کو قومی شاہراہوں، ریاستی شاہراہوں اور سڑکوں سے آوارہ مویشیوں کو ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے سرد ترین شہر کا درجہ حرارت منفی 56 ڈگری تک گرگیا