صبح سویرے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے؟  ماہرین نے وجوہات بتا دیں

Sep 24, 2025 | 09:17:AM
 صبح سویرے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے؟  ماہرین نے وجوہات بتا دیں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک)صبح سویرے بلڈ پریشر کیوں بڑھتا ہے؟ طبی ماہرین نے وجوہات بتا دیں۔
طبی ماہرین کے مطابق عام طور پر نیند کے دوران بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے، لیکن صبح بیداری کے بعد جسم میں ہارمونز کا اخراج بلڈ پریشر کو بڑھا دیتا ہے،اگر یہ اضافہ حد سے زیادہ ہو جائے تو اسے مارننگ ہائی بلڈ پریشر کہا جاتا ہےجو دل کے امراض اور فالج کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی کئی دوائیں قلیل المدتی اثر رکھتی ہیں اور ان کی تاثیر رات کے وقت کم ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں صبح کے وقت بلڈ پریشر قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صبح کے وقت بلڈ پریشر میں اضافے کی ایک بڑی وجہ سلیپ ایپنیا ہے، اس کیفیت میں نیند کے دوران سانس بار بار رکنے سے آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے اور تناؤ کے ہارمونز جیسے ایڈرینالین اور کورٹیسول، بڑھ جاتے ہیں،ان ہارمونز کی وجہ سے صبح بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ہو جاتا ہے۔
 تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سلیپ ایپنیا کے علاج سے بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کی کئی دوائیں قلیل المدتی اثر رکھتی ہیں اور ان کی تاثیر رات کے وقت کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں صبح کے وقت بلڈ پریشر قابو سے باہر ہو سکتا ہے اسی لیے ڈاکٹرز طویل اثر رکھنے والی ادویات اور ان کے درست وقت پر استعمال کی ہدایت دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ سے مسلم ممالک کے سربراہان کی ملاقات،غزہ و مشرق وسطیٰ کی صورتحال پرگفتگو
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ سونے سے پہلے نمکین یا پراسیس فوڈز کا استعمال جسم میں پانی برقرار رکھتا ہے اور خون کے حجم کو بڑھاتا ہے، جس سے صبح بلڈ پریشر بلند ہو سکتا ہے، رات کو بھاری کھانے بھی دل اور دوران خون پر دباؤ ڈال کر اس مسئلے کو بڑھاتے ہیں۔
صبح کے وقت جسم میں کورٹیسول اور ایڈرینالین جیسے ہارمونز کا اضافہ ایک قدرتی عمل ہے، لیکن جن افراد میں تناؤ، اضطراب یا دیگر مسائل زیادہ ہوں ان میں یہ اضافہ خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے، یہ صورتحال دل کے مسائل کو جنم دے سکتی ہے اور نیند کے معیار کو مزید خراب کر دیتی ہے۔