پاکستان اور افغانستان  کی دوطرفہ تجارت سیکیورٹی خدشات کے باعث عارضی معطل ہے،ایف بی آر

Oct 24, 2025 | 21:28:PM
پاکستان اور افغانستان  کی دوطرفہ تجارت سیکیورٹی خدشات کے باعث عارضی معطل ہے،ایف بی آر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(وقاص عظیم) فیڈرل بورڈ آف ریونیوا (ایف بی آر) کا کہنا ہے کہ  پاکستان اور افغانستان  کی دوطرفہ تجارت سیکیورٹی خدشات کے باعث عارضی طور پر معطل ہے۔سرحد کھلنے اور صورت حال معمول پر آنے پر  کلیئرنس کا عمل فوراً بحال کر دیا جائے گا۔ 

ایف بی آر کے مطابق دوطرفہ تجارت معطل ہونے سے پہلے  کسٹمز حکام نے طورخم، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ بارڈر کراسنگ پر 363 درآمدی گاڑیوں کی کلیئرنس کر لی تھی ۔طورخم پر 23 درآمدی گاڑیاں کلیئرنس کی منتظر ہیں،درآمد کنندگان نے تاحال گڈز ڈیکلریشن جمع نہیں کرائی ہیں۔ان گاڑیوں میں کپڑا، پینٹ، مونگ پھلی اور دالوں جیسی  خراب  نہ ہونے والی اشیاء  لدی ہوئی  ہیں۔درآمدکنندگان کی جانب سےگڈز ڈیکلریشن جمع کرائے جانے کے فوراً بعد کسٹمز حکام  کلیئرنس مکمل کر لیں گے۔سرحد کی بندش کے باعث برآمدی سامان والی 255 گاڑیاں طورخم ٹرمینل کے اندر کھڑی ہیں ۔ تقریباً 200 گاڑیاں جمرود لنڈی کوتل روڈ پر پھنسی ہوئی ہیں۔غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ بارڈر اسٹیشن پر کوئی درآمدی گاڑی کلیئرنس کی منتظر نہیں ہے۔

ایف بی آر  کا کہنا ہے کہ چمن بارڈر کسٹمز اسٹیشن پر 15 اکتوبر 2025 سے کسٹمز کلیئرنس آپریشنز معطل ہیں۔چمن میں 5 درآمدی اور 23 برآمدی گاڑیاں پروسیسنگ کی منتظر ہیں جن کے مالکان نے اپنی  کھیپیں   واپس لے جانے سے انکار کر دیا ہے۔اس وقت ٹرانزٹ  کھیپوں   کی تقریبا ً 495 گاڑیاں طورخم اور چمن پر سرحد پار کرنے کی منتظر ہیں۔سرحدی مقامات پر کسٹمز عملہ موجود ہے، سرحد کھلنے اور صورت حال معمول پر آنے پر  کلیئرنس کا عمل فوراً بحال کر دیا جائے گا۔ 

یہ بھی  پڑھیں:ادویات خردبرد سکینڈل،نجی فارما کمپنی کا مالک گرفتار