حکومت درآمد کی بجائے برآمد پر مبنی معیشت کے فروغ کیلئے کوشاں ہے،سردار اویس احمد خان لغاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اویس کیانی) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت درآمد کی بجائے برآمد پر مبنی معیشت کے فروغ کیلئے کوشاں ہے،پاور سیکٹر میں انڈیجنائزیشن وقت کی ضرورت ہے اور حکومت ماہرین اور انڈسٹری سے قریبی روابط کی خواہاں ہے۔نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کی ری اسٹرکچرنگ کی جارہی ہے۔
وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے لمز میں پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن پر مشاورتی ورکشاپ سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا آئی ایس ایم او کا قیام مکمل ہوا۔انرجی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی جلد فعال کی جائے گی۔حکومت نئی سولر ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، تقسیم کار کمپنیاں نیٹ میٹرنگ پر احتیاط برتیں۔پاکستان کے پہلے پاور ایکوئپمنٹ مینوفیکچرنگ ڈیش بورڈ کا اجراء ہوا۔اس سے مقامی پیداواری عمل میں پیش رفت ہو گی۔ڈیش بورڈ کی مدد سے مقامی مینوفیکچررز اور انویسٹمنٹ کے مواقع کو ٹریک کیا جائے گا۔ پالیسی سازی اب ڈیٹا اور شفافیت پر مبنی ہوگی ۔ گرڈ کی پلاننگ میں انقلابی بہتری متوقع ہے، "میڈ ان پاکستان" پاور آلات قومی ترقی کی علامت بنیں گے۔
سردار اویس لغاری کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے کے آلات کی مقامی سطح پر تیاری بڑا سنگ میل ہے،یہ اقدام خود انحصاری، جدت اور پائیدار ترقی کی طرف اہم قدم ہو گا،یہ منصوبہ توانائی کے منظرنامے میں تبدیلی سے انحصاری اور در آمدار میں کمی کا باعث ہو گا،پاکستان توانائی کے شعبے میں ترقی کے سفر میں اہم جگہ کھڑا ہے،جنریشن کپسیٹی میں اضافے ہوا ہے،وانائی کے شعبے میں چیلنجز میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،یہ چیلنجز ٹیکنالوجی میں جدت کے کی وجہ سے بھی سامنے آ رہے ہیں،کہا جا رہا ہے کہ سولر انرجی ریوولوشن پاکستان میں کب آئے گی؟۔قابل تجدید توانائی انقلاب پاکستان آ چکا ہے،توانائی کے شعبے میں سولر سنسیڈی کا بوجھ ہے ہم پر،پاور سیکٹر میں اس وقت اصلاحات اور پالیسی سازی کیلیے مقامی طور پر تیار کردہ ڈیٹا ڈیش بورڈ اہم حیثیت رکھتا ہے ,ہم پاور سییکٹر میں مختلف ٹارگٹس اور فیصلوں پر عمل درآمد کیلئے مخصوص ٹائم فریم ورک مقرر کر رہے ہیں،اس فریم ورک کے تحت اور ڈیٹا ڈیش بورڈ کی بدولت فیصلہ سازی کرنے میں آسانی اور درستگی آرہی ہے ،لمز کے تحت انرجی ڈیٹا پورٹل ایک اہم اقدام ہے جس سے ہم سب مستفید ہونگے،ہم اب ملکی سطح پر ہمارے ایکسپورٹ انڈسٹری کیلیے خطے کی سستی ترین بجلی کی فراہمی کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں،ایکسپورٹ انڈسٹری کیلیے ملک میں موجود تقریباً 7000میگاواٹ بجلی کو بالکل ہی کم مارجن کی قیمت پر مہیا کرنے کا پلان تشکیل دے رہے ہیں ۔ این جی سی پاور سیکٹر انڈیجنائزیشن پالیسی کو نافذ کرنے والا پہلا قومی ادارہ ہے اور اس کا سٹریٹجک پروکیورمنٹ ماڈل پہلے ہی مثبت نتائج فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے واپڈا ، ڈسکوز ، کے الیکٹرک اور سرکاری و نجی بجلی پیدا کرنے والے اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اس پالیسی پر عملدرآمد شروع کریں جو کہ نیشنل الیکٹریسٹی پلان 2023-27 کا حصہ ہے۔
ورکشاپ کے دوران پاکستان کے پہلے پاور ایکوئپمنٹ مینوفیکچرنگ ڈیش بورڈ کا اجراء کیا گیا۔یہ ایک رئیل ٹائم ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو لوکلائزیشن پر پیشرفت، وینڈرز کی استعداد کی نشاندہی اور سٹریٹجک سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنماؤں کےخلاف شیر پاؤ پل پر تقاریر و جلاؤ گھیراؤ کیس،گواہان نے شہادت قلمبند کرائیں