پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر  محمد باقر ذوالقدر ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری مقرر ہوگئے

Mar 24, 2026 | 22:05:PM
پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر  محمد باقر ذوالقدر ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری مقرر ہوگئے
کیپشن: طویل عرصہ سے ایران کی حکومت میں اہم کلیدی امور انجام دینے والے محمد باقر ذوالقدر پہلی مرتبہ پہلی صف میں ایک اہم پوسٹ پر آئے ہیں۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)   ایران نے گذشتہ ہفتے امریکی-اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے طاقتور سربراہ علی لاریجانی کی جگہ پاسداران انقلاب کے ایک سابق کمانڈر  محمد باقر ذوالقدر کو نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر  کیا ہے۔  

آج منگل کے روز ایران کے صدر کی جانب سے محمد باقر ذولقدر کو ایس این ایس سی کے سیکرٹری کے طور پر لاریجانی کے جانشین کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ اس تقرر کا رسمی اعلان  ایرانی صدر مسعود پپیزشکیان کے ڈپٹی کمیونیکیشن نے منگل کو ایکس پر  ایک پوسٹ میں کیا۔

SNSC، جس کی باضابطہ صدارت منتخب صدر مسعود پیزشکیان خود کرتے ہیں، ایران کی ریاست میں سلامتی اور خارجہ پالیسی کو مربوط کرتی ہے، اور اس میں اعلیٰ ترین فوجی، انٹیلی جنس اور سرکاری حکام کے علاوہ سپریم لیڈر کے نمائندے شامل ہوتے ہیں جو ریاست کے تمام معاملات پر حتمی رائے رکھتے ہیں۔

ذولقدر پاسداران کے ایک سابق کمانڈر ہیں جو ماضی میں وزارت داخلہ میں سیکیورٹی کے لیے نائب، مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے نائب اور جرائم کی روک تھام کے لیے عدلیہ کے سربراہ کے مشیر جیسے کلیدی سیکیورٹی عہدوں پر بھی کام کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:    ٹرمپ نے اسلام آباد کے ایران امریکہ  مذاکرات کی میزبانی کرنے کی تصدیق کر دی 

ذوالقدر  نے سخت گیر سیاسی دھڑے پاپولر فرنٹ آف اسلامک ریوولیوشنری فورسز کے انتخابی ہیڈکوارٹر کی سربراہی بھی  کی۔ ان سب اسائنمنٹس کے ساتھ ان کی تہران کی ہرارکی میں پوزیشن ثانوی رہی تاہم اب بہت سے اہم اور طاقتور لوگوں کے جنگ میں اور اس سے پہلے اسرائیل کی ٹارگٹڈ کارروائیوں میں  مارے جانے کے بعد   پہلی بار وہ پہلی صف میں ایک نمایاں پوزیشن میں نظر آ رہے ہیں۔ 

ذوالقدر نے 2022 سے "مجمع تشخیص مصلحت نظام " کے سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دی ہیں، ایک ایسا ادارہ ہے جسے آیت اللہ خمینی نے  1988 میں تشکیل دیا تھا اور  جو پارلیمنٹ اور شوریِٰ نگہبان کے فقہا کے درمیان اختلافات کو حل کرتی ہے۔ شوریٰ نگہبان پارلیمنٹ کی قانون سازی کو ویٹو کر سکتی ہے اور پارلیمنٹ کے انتخابات مین شامل ہونے والے نمائندوں کی چھان بین کرنے کے ساتھ سارے انتخابی عمل کی نگرانی کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمےکیلئے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے، وزیراعظم