جنگ نہ رکی تو کوٹہ مقررہوگا، ہر شہری کو طے شدہ پیٹرول ملےگا

Mar 24, 2026 | 19:58:PM
 جنگ نہ رکی تو کوٹہ مقررہوگا، ہر شہری کو طے شدہ پیٹرول ملےگا
کیپشن: فائل فوٹو پٹرول کی معمولی قلت ہونے کا صرف امکان ہی پٹرول پمپس پر لوگوں کا ہجوم کروا دیتا ہے۔ اب حکومت انتظام کر رہی ہے کہ اگر قلت ہو جائے تب بھی افراتفری نہ ہو اور ہر شہری کو اس کی جائز ضرورت کے مطابق پٹرول ملنے کا یقین ہو جائے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بظاہرایران امریکہ جنگ بندی کے لئے مذاکرات کے امکانات یکا یک روشن ہو گئے ہیں لیکن پاکستان کی حکومت جنگ جاری رہنے کی صورت میں پٹرول کی راشن بندی کے لئے ٹھوس انتظام کر رہی ہے۔ پٹرول کی قلت ہوئی تو راشن کے مطابق روزانہ طے شدہ مقدار میں ہی پٹرول ملے گا۔ اس کے ساتھ وفاقی حکومت شہریوں کو پٹرول ، ڈیزل نسبتاً کم قیمت پر دینے کے لئے صوبوں سے بھی مالی مدد مانگ رہی ہے۔

عوام کا پٹرول کوٹہ مقرر کرنے اور ہر موٹر بائیک اور گاڑی کے مالک کو طے شدہ  کوٹے کے مطابق پیٹرول دینے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور  حکومت کے حکم پر سرکاری ادارہ کے ایکسپرٹ ایک نئی ایپلی کیشن (ایپ) تیار کر رہے ہیں۔ یہ ایپلی کیشن  وزیراعظم کی خاص ہدایت پر بنائی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف پٹرول ڈیزل کی قیمت بڑھانے کے اعلان سے اب تک مسلسل عوام سے پٹرول ڈیزل کے استعمال میں  کفایت شعاری اختیار کرنے کی درخواستیں کر رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع بتا رہے ہیں کہ اگر قلت ہوئی اور جنگ نہ رکی تو وزیراعظم شہریوں کے لئے پٹرول اور ڈیزل کا باقاعدہ کوٹہ مقرر کر کے پٹرول کی راشن بندی کا اعلان کریں گے۔ اس کے بعد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں رکھنے والے شہریوں کو ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی اور اپنی گاڑی کی رجسٹریشن کرنے  کے مرحلہ سے گزرنا لازم ہو جائے گا، ہر رجسٹرڈ گاڑی، موٹر سائیکل کے مالک کو طے شدہ کوٹہ کے مطابق روزانہ پٹرول، ڈیزل ملے گا۔

ذمہ دار حکومتی ذرائع بتا رہے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف وفاقی حکومت پر پڑے ہوئے بوجھ  کو صوبوں کی حکومتوں کے ساتھ بانٹنا چاہتے ہیں۔ اگر مستقبل میں یہ بوجھ برقرار رہا تو  وزیر اعظم شہباز شریف  پیٹرولیم سبسڈی میں صوبوں کو شامل کرنے اور راشن بندی ایپ پر صدرمملکت کے ساتھ بات چیت کریں گے اور صوبوں کو بھی اعتماد میں لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  جنگ بندی کی امید کے باوجودجنگ ؛ کروڈ کی قیمتیں کم ہونے کے بعد دوبارہ بڑھنےکارجحان

یہ بھی پڑھیں: تہران اور  اصفہان میں نئے دھماکوں کی خبریں

 وزیراعظم شہباز شریف کی صدر آصف علی زرداری کے ساتھ  پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں صوبوں کو شامل کرنے کے لیے مشاورت کی غرض سے صدرمملکت آصف علی زرداری کے ساتھ آج ملاقات کا امکان ہے۔ حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی راشن بندی کے لیےڈیجیٹل نظام لا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آج شام ایوان صدر میں صدرمملکت آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کریں گے اور اس دوران پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں صوبوں کو شامل کرنے کے لیے انہیں اعتماد میں لیں گے۔

وفاقی حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر 100 ارب روپے کی سبسڈی دے چکی ہے، جس کے بینیفشری پورے ملک کے عوام ہیں اور وزیراعظم صوبائی حکومتوں سے بھی سبسڈی میں حصہ ڈالنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔

  وفاقی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی راشن بندی کے لیےڈیجیٹل نظام لانے کیلئے ایک ایپ تیار کر رہی ہے۔ اس ایپ کو استعمال کرنے کے لئے ہر شہری اپنی گاڑی کا نمبر اور اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کر کے ایپ میں رجسٹریشن کروائے گا۔

حکومت ہر شہری کا اس کی ضرورت اور دستیابی کے مطابق پیٹرولیم کوٹہ مقرر کرے گی۔ ہر شہری کو ایپ میں طے شدہ کوٹے کے مطابق روزانہ کا پیٹرول یا ڈیزل مل سکے گا اور اس سلسلے میں حکومت نے پچھلے مارچ سے اس مارچ تک پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے باوجود استعمال میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے اور وزیراعظم پیٹرولیم سبسڈی میں صوبوں کو شامل کرنے اور راشن بندی ایپ پر صدرمملکت کو اعتماد میں لیں گے۔