قانون کے مطابق کام کریں، ہم سب اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں؛جسٹس تنویر احمد کے کیس میں ریمارکس
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے تین افراد کی بازیابی کیس میں ایڈیشنل آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق کام کریں، جتنے لوگ کرسی پر بیٹھے ہیں وہ سب کسی نہ کسی کو انصاف دیتے ہیں اور ہم سب اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ دونوں کندھوں پر فرشتے بیٹھے ہوتے ہیں اور انسان کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوتا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس تنویر احمد شیخ نے سائلہ سلمی بی کی تین افراد کی مبینہ بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت کی ، جس میں ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ جس میں علی احمد، تنویر احمد اور ناصر کی بازیابی کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی پنجاب حکومت کے لاء افسر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ان افراد کے خلاف انکشافات کے علاوہ کوئی اور ثبوت موجود ہے۔ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے بتایا کہ ان افراد کے خلاف پہلے سے مقدمات درج ہیں اور دوران تفتیش برآمدگیاں بھی ہوئی ہیں۔جسٹس تنویر احمد شیخ نے سوال کیا کہ کیا یہ برآمدگیاں ہائیکورٹ میں درخواست دائر ہونے کے بعد ہوئیں، جس پر ایڈیشنل آئی جی نے تصدیق کی کہ درخواست دائر ہونے کے بعد تفتیش کے دوران ریکوری کی گئی۔ایڈیشنل آئی جی کے مطابق علی احمد، تنویر احمد اور ناصر سے ایک گائے اور نقدی برآمد ہوئی جبکہ مجموعی طور پر دس مقدمات میں ریکوری عمل میں آئی، جن میں چار مقدمات میں گائے اور دیگر میں نقد رقم برآمد کی گئی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان افراد کا کوئی سابقہ کریمنل ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔ جسٹس تنویر احمد شیخ نے ریمارکس دیئے کہ اگر عدالت مداخلت نہ کرتی تو شاید ان افراد کی لاشیں سامنے آتیں۔ عدالت نے مزید آئندہ سماعت تک کیس ملتوی کررہے ہیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس میں آئندہ کیا ہوتا ہے؟ عدالت نے ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی کو آئندہ سماعت پر حاضری سے استثنیٰ دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 5 مارچ تک ملتوی کر دی۔