آئی ایم ایف کی شرط پر بجلی پر سبسڈی کو محدود کر دیا گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز ) حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی شرط پر بجلی پر سبسڈی محدود کر دی گئی، وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت اب بجلی پر سبسڈی صرف غریب اور کم آمدن والے صارفین کو دی جائے گی.
ذرائع کے مطابق 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے وہی صارفین سبسڈی حاصل کر سکیں گے جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ ہوں گے وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ سبسڈی کے حصول کےلئے صارفین کو کیو آر کوڈ اسکین کر کے رجسٹریشن کرنا ہوگی، جس کے بعد ان کا ڈیٹا نادرا سے حاصل کیا جائے گا.
ذرائع کے مطابق یکم جنوری 2027 کے بعد ملک بھر میں صرف ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام نافذ ہوگا، وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ایک سے زیادہ میٹر لگانے والوں اور بڑے گھروں کو سبسڈی نہیں دی جا سکتی کیونکہ بجلی، گیس اور آٹے کی سبسڈی صرف کم آمدن والے افراد کا حق ہے.
ادھر شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سیاسی بنیادوں پر لوگوں کی رجسٹریشن کی گئی ہے ‘شہریوں کی ایک بڑی تعداد جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے پر مجبور ہے کیونکہ ان کے پاس وسائل نہیں کہ وہ الگ گھر بناسکیں،ان کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت بیشتربڑے شہروں میں دو‘تین مرلے کے گھر میں تین سے چار خاندان آباد ہیں مگر انہیں سبسڈیزسے محروم رکھا جارہا ہے کیونکہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے وہ بجلی کے الگ الگ کنکشن استعمال کرتے ہیں .
ان کا کہنا ہے کہ حکومت سبسڈی کے خاتمے کے ساتھ وزیراعظم ہاﺅس،ایوان صدر،ممبران قومی اسمبلی وسینیٹ،بیوروکریٹس،اعلیٰ عدالتوں کے ججوں ‘سرکاری ملازمین ‘کیمپ آفس قراردی گئی نجی رہائش گاہوں کو فراہم کی جانے والی بجلی‘گیس اور دیگر مراعات کی تفصیلات بھی شائع کرئے اور صدرسے لے کرنچلے درجے تک جتنے بھی حکومتی عہدیداروں ‘سرکاری ملازمین اور جج صاحبان کو یوٹیلٹی بلوں سمیت جتنی بھی مراعات دی جارہی ہیں انہیں ختم کیا جائے۔
سرکاری گاڑیوں کے لیے استعمال ہونے والے پیٹرول اور ڈیزل کی تفصیلات بھی ہرماہ شائع کی جائیں‘اسی طرح وفاق‘چاروں صوبوں اور تمام سول وملٹری اداروں کے پاس موجود گاڑیوں کا ریکارڈ اور ان پر آنے والے اخراجات کے بارے میں بھی قوم کو بتایا جائے.
انہوں نے مطالبہ کیا کہ چونکہ ملک مشکل حالات کا سامنا کررہا ہے لہذا ایوان صدر‘وزیراعظم ہاﺅس‘سینیٹ‘قومی اسمبلی اور تمام صوبائی اسمبلیوں سمیت سرکاری دفاتر اور رہائش گاہوں پر ایئرکینڈیشنرکے استعمال پر مکمل پابندی عائدکی جائے‘بیرون ممالک دوروں کو بھی اسمبلیوں اور سینیٹ کی منظوری سے مشروط کیا جائے.
ان کا کہنا ہے کہ حکمران اشرافیہ سب سے پہلے قومی خزانے سے اپنے اخراجات کا بوجھ ختم کرئے ‘قوم نے ہمیشہ قربانی دی ہے اس بار حکمران اور سرکاری افسران قربانی دیں اور غیرضروری اخراجات کو فوری ختم کریں‘اراکین پارلیمان اور وزیروں‘مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کو واپس لیا جائے۔
اسی طرح اعلی افسران‘جج صاحبان سمیت جتنے بھی سرکاری ملازمین کے بل سرکاری خزانے سے اداکیئے جاتے ہیں ان کی ادائیگیاں روکی جائیں اور سہولیات استعمال کرنے والوں کو پابندکیا جائے کہ وہ اپنے بل خو د اداکریں.
یہ بھی پڑھیں :امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں مثبت نتیجے کے قریب پہنچ گئےہیں: خواجہ آصف