استنبول کے میئر کی گرفتاری پر عوام کا شدید احتجاج

Mar 23, 2025 | 20:29:PM
استنبول کے میئر کی گرفتاری پر عوام کا شدید احتجاج
کیپشن: تصویر، فائل
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)ترکی کے دارالحکومت استنبول کے میئر اکرم امام اولو کی گرفتاری پر شدید احتجاج کیا گیا، 4 راتوں سے جاری احتجاج میں مزید شدت آ گئی ہے۔استنبول کے میئر اکرم امام اولو کی گرفتاری کے بعد مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ امام اولو کے ایک وکیل نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانونی کارروائی جاری رکھیں گے۔ اپوزیشن پارٹی کے اس سیاستدان کی گرفتاری نے ترکی میں ایک دہائی کے بدترین احتجاج کو جنم دے دیا ہے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ امام اولو کی گرفتاری کی وجہ انہیں صدارتی امیدوار نامزد کرنا ہے۔ وہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو چیلنج کرنے والے واحد سیاستدان سمجھے جاتے ہیں۔امام اولو کو دو الگ الگ مقدمات کے تحت حراست میں لیا گیا۔امام اولو کے خلاف کارروائی کے بعد استنبول میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جو ترکی کے 81 میں سے 55 سے زائد صوبوں میں پھیل گئے۔ پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 323 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

استنبول میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی خاطر ربڑ کی گولیاں، پیپر اسپرے اور شیلنگ کا استعمال کیا جبکہ نصف رات کے بعد کارروائی مزید سخت کر دی، جس سے متعدد مظاہرین کو بلدیہ کی عمارت میں پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔انقرہ میں فورسز نے مظاہرین کے خلاف واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے انہیں پیچھے دھکیل دیا جبکہ مغربی ساحلی شہر ازمیر میں پولیس نے طلبہ کے ایک جلوس کو حکمراں اے کے پارٹی کے مقامی دفاتر کی طرف جانے سے روک دیا۔

پولیس نے عدالت کے ارد گرد سخت حفاظتی حصار قائم کر دیا، جہاں تقریباً 1,000 مظاہرین نعرے بازی کرتے رہے، ہفتے کے روز 53 سالہ میئر امام اولو نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ''اس عمل نے نہ صرف ترکی کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ  انصاف اور معیشت پر عوامی اعتماد کو بھی چکنا چور کر دیا ہے۔

ترکی کے تین بڑے شہروں میں احتجاج پر پابندی عائد ہے جبکہ ایردوآن نے متنبہ کر رکھا ہے کہ حکام ''سڑکوں پر دہشت گردی‘‘ کو برداشت نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود ترکی میں یہ بدامنی اتنی تیزی سے پھیلی ہے کہ یہ حکومتی ایوانوں کے لیے پریشان کن امر بن گئی ہے۔

مزید پڑھیں :ایران نے امریکہ کی مذاکرات کی پیشکش کو دھمکی قرار دیدیا