ٹرمپ،شی جن پنگ ملاقات، عالمی تعلقات میں بہتری یا بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)اپریل 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے بیجنگ میں ملاقات کے امکانات ہیں،یہ ملاقات امریکہ اور چین کے تعلقات میں بہتری کے ساتھ تائیوان اور یوکرین کے تنازعات کے خطرات کو کم کر سکتی ہے،دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی یہ ملاقات بھارت کے لیے واضح خطرے کی گھنٹی ہے۔
غیر ملکی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے 2025 میں ٹرمپ کو بیجنگ دورے کی دعوت دی جبکہ دونوں رہنماؤں کی جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں بھی ملاقات ہوئی،اس ملاقات کو امریکی صدر ٹرمپ نے "انتہائی کامیاب" قرار دیا تھا۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے ٹیرف اور تجارتی تاخیر نے بھارت امریکہ تعلقات کو متاثر کیا اوربھارت اب بیجنگ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ٹرمپ نے نومبر 2025 میں “G-2” کی اصطلاح استعمال کی اور امریکہ اور چین کو دو عظیم طاقتیں قرار دیا۔
غیر ملکی جریدے کے مطابق ٹرمپ اور پاکستان کے تعلقات کے باعث بھارت-امریکہ تعلقات متاثر ہوئے، ٹرمپ کے دعوے کہ انھوں نے بھارت-پاکستان تنازعات کو روکا اور آپریشن سندور میں بھارتی فوجی نقصان کی تفصیلات، بھارت کے لیے قابل قبول نہیں۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق بھارت ٹرمپ کی ثالثی اور G-2 کے حوالہ کو قبول نہیں کر رہا،امریکہ اور چین کے تعلقات مضبوط ہونے سے بھارت کی اقتصادی اور سفارتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی، 77 تاحال لاپتہ،لواحقین کا احتجاج
ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق چین اور امریکہ کی مضبوط قربت بھارت کے تجارتی سودوں اور اقتصادی اثر و رسوخ کو محدود کر دے گی،بھارت کو اپنی پالیسی میں فوری اصلاحات کرنا ہوں گی ورنہ وہ عالمی سطح پر تنہا اور کمزور ہو جائے گا۔
ماہرین نے کہا کہ جی-2 کی اصطلاح اور ٹرمپ شی ملاقات بھارت کے لیے واضح خطرہ کی گھنٹی ہے، چین کے اثر و رسوخ میں اضافہ بھارت کی علاقائی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے، امریکہ چین کے بڑھتے تعلقات کے نتیجے میں بھارت دونوں ممالک کے دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔