توشہ خانہ کیس میں ایک گواہ جھوٹا ثابت ہوا، کیس ختم ہونا چاہیے: علیمہ خان

Sep 22, 2025 | 18:39:PM
توشہ خانہ کیس میں ایک گواہ جھوٹا ثابت ہوا، کیس ختم ہونا چاہیے: علیمہ خان
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ارشد قریشی)بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں ایک گواہ جھوٹا ثابت ہوا ہے، جھوٹی گواہی پر کیس ختم ہونا چاہیے۔ 

راولپنڈی میں اڈیالا جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ایسے لگتا ہے اگلی دو تین سماعتوں میں کیس ختم ہو جائے گا، انھوں نے کہا کہ امید ہے اس کیس میں بانی اور بشریٰ بی بی رہا ہوجائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ سابق ملٹری سیکریٹری نے بھی تمام دستاویزات کو درست قرار دیا، لگتا ایسے ہے اگلی دو تین سماعتوں میں کیس ختم ہوجائے گا، ہمیں اُمید ہے اس کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی رہا ہوجائیں گے۔

علیمہ خان نے بتایا کہ بانی نے کہا ہمیں دو تہائی اکثریت ملی تھی ہمارا ووٹ چوری کیا گیا، بانی نے کہا ہمارے ووٹ چوری کرکے چوروں کو حکومت دی گئی، بانی نے کہا سزا یافتہ لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا، بانی نے کہا پاکستان میں اخلاقیات کا جنازہ نکالا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بانی نے کہا 26ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو مکمل طور پر دبادیا گیا، بانی نے کہا کئی ججز رول آف لاء کیلئے کھڑے ہوئے ہیں، بانی نے کہا جو ججز رول آف لاء کیلئے کھڑے ہیں وہ قوم کے ہیرو ہیں، بانی نے کہا 26ویں ترمیم کے بعد جو ججز عاصم لاء کو سپورٹ کررہے ہیں انہیں تاریخ معاف نہیں کرے گی۔

عمران خان کی بہن نے بتایا کہ بانی نے کہا 27 ستمبر کے جلسے میں پوری قوم نکلے، میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے، بانی نے کہا یہ جلسہ قوم کی آزادی کیلئے ہے، بانی نے پارٹی کو ہدایت کی ہے جلسے کو کامیاب بنائیں، بانی نے جلسے کی ذمہ داری علی امین گنڈا پور اور جنید اکبر کو جلسے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

بانی نے کہا تین سال سے ہم نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی،مذاکرات کے بجائے انہوں نے ہماری پارٹی کو مزید دبایا ہے،مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر، بیرسٹر سیف اور علی امین گنڈا پور کو کہا ہے اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بات نہ کرے۔

انھوں نے بتایا کہ بانی نے کہا ہے جس نے بات کرنی ہے وہ جیل آئے، پاکستان اور سعودی عرب کا معاہدہ  کی بہت اہمیت ہے۔
پاکستان کو عالمی سطح پر رابطے تیز اور بحال رکھنے چاہئے، حرمین شریفین کی حفاظت ہمارے لئے سعادت ہے۔

دریں اثنا علیمہ خان کی میڈیا ٹاک سے قبل صحافیوں نے احتجاج کیا اور موقف اپنایا کہ علیمہ خان صاحبہ آپ اپنی مرضی کی بات کر کے سوالوں کا جواب نہیں دیتیں یہ درست عمل نہیں ۔

صحافیوں نے کہا کہ آپ پہلے ہمارے سوال لیں انکا جواب دیں،علیمہ خان نے سوالوں کے جواب دینے کا وعدہ کیا کہا ٹاک کے بعد جواب دیں گی ،علیمہ خان نے سوال سنے بغیر ہی میڈیا ٹاک ختم کردی۔

صحافی طیب بلوچ نے سوال کیا  کہ میڈم پی ٹی آئی پر الزام ہے کہ اس نے مذہبی ٹچ کے اندر قادیانی فتنے کو فروغ دینے کی کوشش کی آپ کیا کہیں گی،میڈم آپ مشن نور کے متعلق کیا کہیں گی؟علیمہ خان نے جواب دینے سے گریز کیااور  گاڑی میں سوار ہو کر نکل گئیں۔

یہ بھی پڑھیں :سندھ حکومت نے 24 ستمبر کو 14 شہروں میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا