غزہ سیکیورٹی فورس میں  کسی  مسلم ملک  کو شامل نہیں کیا جائے گا،معروف تجزیہ کار سلیم بخاری کا انکشاف

سلیم بخاری شو

Oct 22, 2025 | 23:54:PM
غزہ سیکیورٹی فورس میں  کسی  مسلم ملک  کو شامل نہیں کیا جائے گا،معروف تجزیہ کار سلیم بخاری کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فرخ احمد)سینئر صحافی اور معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے پاکستان  کی جانب سےاسرائیل کی جانب سے غزہ امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کی مذمت ، اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شکر ہے پاکستان کے دفتر خارجہ کو بھی ہوش  آئی ہے اور اس نے بھی ایک دھماکہ خیز بیان دیا ہے اور غزہ امن معاہدے کی خلاف ورزیوں پر اپنا رد عمل دیا۔انہوں نے خارجہ آفس کے بیان میں  پاکستان کی جانب سے  1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا جبکہ القدس الشریف کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے مؤقف کو دہرایا گیا پر اللہ کا شکر ادا کیا  اور کہا کہ میں تو یہ سمجھا تھا کہ یہ دو تین چیزیں ہمارے فارن آفس سے خارج ہو گئی ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان نے امن معاہدے کے تحت یہ سب چیزیں تسلیم کر لی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو اس قسم کا سخت بیان نہ دیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ مجھے تو تشویش اس بات کی تھی کہ مسلم ممالک نے بھی چپ سادھ رکھی ہے اور اسرائیلی افواج غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام میں مصروف ہے اور کوئی بھی بولنے کو تیار نہیں ہے۔کہ یہ ، اسرائیلی کارروائیاں شرم الشیخ امن معاہدے کی روح کے منافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب شرم الشیخ امن معاہدہ ہوا تھا تو اس میں یہ طے ہوا تھا کہ چار اسلامی ممالک کی افواج غزہ میں تعینات ہوں گی تاکہ جنگ بندی کو بھی یقینی بنایا جائے اور غزہ کی تعمیر نو  میں بھی شمولیت ہو سکے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ جو ممالک بھی غزہ جنگ بندی کی نگرانی کریں گی یا تعمیر نو میں کردار ادا  کریں گی ان میں کوئی بھی مسلم ملک شامل نہیں ہوگا۔انہوں  نے انکشاف کیا کہ ابھی تو غزہ معاہد ہ بھی نہیں ہوا تھا جب انڈونیشا نے کہا تھا کہ ہم غزہ کی حفاظت کے لیےبیس ہزار فوجی  بھیجنے کو تیار ہیں لیکن اس کو کیوں تسلیم نہیں کیا گیا،اسی طرح ترکیہ کی فوج کو نیتن یاہو ریڈ لائن قرار دے رہے ہیں  اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کسی بھی مسلم ملک کو غزہ کے نزدیک نہیں دیکھنا چاہتے۔ صرف  ان کٹھ پتلی حکومت کو بھی شائد ہی شامل کیا جائے وہ بھی شائد۔اس کے بھی امکانات بہت کم ہیں۔

 وزیر اعلیٰ کے پی نے   بلٹ پروف گاڑیاں  لینے سے انکارکیوں کیا؟

سلیم بخاری نے  اپنی رائے دیتے ہوئےکہا  ایک تو کے پی حکومت  دہشتگردوں کے خلاف اپریشن نہیں کرنا چاہتے  بلکہ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کے وفاقی حکومت   بھی یہاں آکر  ان دہشتگردوں کے خلاف کوئی اپریشن کرے۔لیکن اس کی ایک اور وجہ بھی ہے وہ یہ کہ کےپی حکومت اور تحریک انصاف والے کوئی بھی چیز  جنس کی شکل میں نہیں لیتے وہ صرف کیش پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کو کوئی ہتھیار ، بلٹ پروف گاڑیاں  یا اس طرح کی چیز نہیں لیتے۔انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو  سہیل بزدار کیوں کہا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ کہ عثمان بزدار نے کیا کیا، انہوں نے پنجاب میں بہت کام کیے مثلا انہوں نے ایک نئی وزارت ٹرانسفر پوسٹنگ کی بنائی جس میں  ہر  بیوروکریٹ کو پیسے لیکر من پسند جگہ پر تعینات کیا جاتا تھا ، جیسی پوسٹ ویسے پیسے اور آئی جی سے لیکر نیچے تک پیسے لیکر تبادلےکیے جاتے تھے۔

کیا بھارت افغان طالبان رجیم کو تسلیم کرنے جا رہا ہے؟

بھارت نے افغانستان میں اپنا سفارت خانہ بحال کردیا اس پر رائے دیتے ہوئےسلیم بخاری نے  کہا کہ بھارت نے  افغانستان اپنے دہشتگردانہ عزائم کی تکمیل کےلیے اپناسفارت خانہ کھول دیا ہے۔اس کاشائد یہ بھی ارادہ ہو کہ وہ طالبان رجیم کو تسلیم کرنے جارہا ہے ۔یہ سب افغانستان کے  وزیر خارجہ کے  حال ہی میں بھارت کا دورہ  کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ جس میں دو طرفہ تعلقات کی بحالی پر اتفاق کیا گیا تھا۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - قومی
ٹیگز: