چندا نے اپنے شوہر کا 300 کروڑکا قرض منظور کرکے64کروڑ روپے رشوت لے لی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) بھارت کی ایک اپیل کورٹ نے نجی سیکٹر کے آئی سی آئی سی آئی بینک کی سابق سی ای او چندا کوچر کو ویڈیوکون گروپ سے منسلک رشوت لینے کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا دیا ہے۔ اپیلٹ ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں کہا کوچر نے2012 میں ویڈیوکون کیلئے 300 کروڑ روپے کے قرض کو منظوری دینے کے عوض64 کروڑ روپے کی رشوت قبول کی۔ ٹریبونل کے فیصلے میں لکھا ہے کہ یہ صرف ایک عام کاروباری معاہدہ نہیں تھا بلکہ انہوں نے اپنے ذاتی فائدے کیلئے ایسا کیا۔ رشوت کی یہ موٹی رقم ان کے شوہر دیپک کوچر کے ذریعے ویڈیوکون سے منسلک ایک کمپنی کی جانب سے انہیں بھیجی گئی۔
بھارت کے ایک معروف اردو اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹریبونل نے وضاحت کی کہ بینک کی جانب سے300کروڑ روپے کا قرض منظور کئے جانے کے فوراً بعد، ویڈیوکون نے 64کروڑ روپے، نُو پاور رینیو ایبلز پرائیویٹ لمیٹڈ (این آر پی ایل) کو منتقل کر دیئے، جو دیپک کوچر کے کنٹرول میں تھی۔ بظاہر، این آر پی ایل کی ملکیت ویڈیوکون کے چیئرمین وینوگوپال دھوت کے نام پر دکھائی گئی تھی، لیکن اس پر اصل کنٹرول دیپک کوچر کا تھا، جو اس کے منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کر رہے تھے۔ ٹریبونل نے رقم کی منتقلی کو بدعنوانی کا براہ راست ثبوت قرار دیا۔ٹریبونل نے نوٹ کیا کہ چندا کوچر آئی سی آئی سی آئی بینک کی قرض منظوری کمیٹی کا حصہ تھیں لیکن انہوں نے اپنے شوہر کے ویڈیوکون کے ساتھ کاروباری تعلقات کے بارے میں بینک کو مطلع نہیں کیا۔ یہ عمل بینک کے مفادات کے تصادم سے متعلق اصولوں کی صریح خلاف ورزی تھی، جہاں تعصب سے بچنے کیلئے ذاتی تعلقات کو ظاہر کرنا ضروری تھا۔ ٹریبونل نے ایک سابقہ فیصلے پر بھی تنقید کی جس میں ایک اور اتھارٹی نے کوچر اور ان کے ساتھیوں کو 78 کروڑ روپے کے اثاثے جاری کر دیئے تھے۔ ٹریبونل کے مطابق اس فیصلے میں اہم حقائق کو نظر انداز کیا گیا اور یہ شواہد کے خلاف تھا۔ٹریبونل نے مزید کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے رشوت کا ٹھوس ثبوت فراہم کیا۔ قرض کی منظوری، فنڈز کی منتقلی اور کوچر کے شوہر کی ملکیت والی کمپنی کو رقم بھیجنے کا یہ پورا عمل اختیارات کا سنگین غلط استعمال اور اخلاقی طرز عمل کی خلاف ورزی پر مبنی تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا T20 ، پاکستان کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ