خلانورد زمین پر واپسی کے بعد بینائی سےمحروم ہونے لگے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)خلا میں چھ ماہ یا اس سے زیادہ وقت گزارنے والے خلانورد زمین پر واپسی کے بعد بینائی کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ خلائی مشنوں کا نیا اور تشویشناک پہلو بن کر سامنے ابھرا ہے،امریکی خلائی ادارے ناسا کی جاری تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن (ISS) پر طویل قیام کرنے والے تقریباً 70 فیصد خلانورد واپسی پر دھندلی نظر، پڑھنے میں دشواری اور آنکھوں کے دباؤ جیسے مسائل کی شکایت کرتے ہیں،یہ علامات اب باقاعدہ ایک سائنسی اصطلاح SANS کے تحت شناخت کی جا رہی ہیں، جس کا براہِ راست تعلق مائیکرو گریویٹی سے جوڑا جا رہا ہے۔
ناسا کی میڈیکل ٹیمز کے مطابق کئی خلانوردوں کو واپسی پر زیادہ طاقت کے چشموں کی ضرورت محسوس ہوئی، ان کی آنکھوں کے اندر optic disc یعنی وہ مقام جہاں نظر کی رگ ریٹینا میں داخل ہوتی ہے، اس میں سوجن دیکھی گئی۔
آئی بال کی ساخت میں معمولی تبدیلی، یعنی چپٹا پن، بھی ریکارڈ ہوا۔
ایک سابقہ خلانورد، ڈاکٹر سارہ جانسن، نے بتایا کہ خلا میں چھ ماہ گزارنے کے بعد زمین پر واپس آ کر انہیں وہ تحریر پڑھنے میں دُشواری ہونے لگی جسےوہ مشن سے پہلےباآسانی پڑھ لیتے تھے۔
دراصل زمین پر کششِ ثقل خون اور جسمانی سیال کو نیچے کی سمت کھینچتی ہے، جبکہ خلا میں یہ فلوئڈز چہرے، دماغ اور آنکھوں میں جمع ہو جاتے ہیں، جس سے دماغی دباؤ بڑھنے اور آنکھوں کی ساخت میں تبدیلی واقع ہونے لگتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ خلانوردوں کو اکثر چہرے پر سوجن، سر درد، اور بینائی کی خرابی جیسے مسائل پیش آتے ہیں، ناسا کا ماننا ہے کہ یہ دباؤ ہی ایس اے این ایس جیسے مسئلے کا بنیادی سبب ہے۔
ناسا اس مسئلے کے حل کے لیے کئی تحقیقی منصوبے چلا رہا ہے، جس میں یہ جانچا جا رہا ہے کہ کیا ٹانگوں پر کساؤ والے بینڈ لگا کر خون کو جسم کے نچلے حصے میں رکھا جا سکتا ہے تاکہ دباؤ کم ہو۔
اس کے علاوہ ایم آر آئی سکین، آنکھوں کی تصویریں، ورچوئل ریالٹی سکریننگ، اورآپٹک نرو کے غلاف کی پیمائش جیسے جدید طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ اس مسئلے کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔