کے پی سینٹ الیکشن نے پی ٹی آئی میں تقسیم مزید آشکارکر دی،سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سینیٹ انتخابات نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) میں تقسیم مزید آشکار رکردی۔
خیبر پختونخوا میں سینٹ الیکشن پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ یہ سب اسی فارمولے کے تحت ہو ا ہے جو کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے ساتھ طے تھا جس کے مطابق5نشستیں اپوزیشن کو دی جائیں گی اور 6سیٹیں پی ٹی آئی کو ملیں گی لیکن تحریک انصاف میں اس بات پر معاملات طے نہ ہوسکے اور بلامقابلہ الیکشن نہ ہوسکے،پھر بھی سینٹ کے الیکشن کا رزلٹ اسی فارملے کے تحت ہی آیا،یوں خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف نے 6 اور اپوزیشن جماعتوں نے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی،اس سوال کے جواب میں سلیم بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ سینیٹ الیکشن کے لیے پی ٹی آئی کے پی قیادت کا امیدواروں کی فہرست عمران خان سے چھپانے اور ردوبدل کا الزام اور یہ الزام بھی علی امین گنڈا پورپر ہی ہے۔
انہو ں نے کہا کہ چونکہ وہا ں کے وزیر اعلیٰ کے خلاف تما م ارکان متحد نہیں ہیں اس لیے اس بات کا بھی احتمال تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان 6 سیٹوں سے بھی جائیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دھڑے بندیاں موجود ہیں۔
وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کا بھی خطرہ موجود ہے دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ2پارٹیاں جن کی سمت آپس میں نہیں ملتیں انہوں نے اتحاد کر لیا اور 5سیٹیں حاصل کر لیں۔
اس سوال کے جواب میں انہوں نےکہاکہ ایسا آئین اور قانون کے مطابق درست ہے؟ بخاری صاحب نے کہا کہ یہ تو تب ہے کہ الیکشن بلامقابلہ ہوں، لیکن پانچ لوگوں کے اصرار پر کہ وہ الیکشن لڑیں گے یوں الیکشن بلامقابلہ نہ ہوئے اور پی ٹی آئی6، 5 کےفارمولے کے تحت الیکشن کروائے گے۔
احتجاجی تحریک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارٹی تقسیم در تقسیم کا شکار ہے جس میں مین رول علی امین گنڈا پور کا بھی ہے کہ جنہوں نے بانی کی 5اگست کی تاریخ کے مقابلے میں اپنی3 مہینے کی تاریخ دیدی جو کہ تنازعہ کا باعث بن رہی ہے اس سے لگتا نہیں کہ تحریک انصاف کسی کامیاب تحریک کو چلا سکیں گے۔
غزہ میں بھوک کا راج،جنگ بندی کب ہو گی؟
فلسطین کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ فلسطینی روزانہ ایک بوری آٹے کے لیے گولیوں کی زد میں آتے ہیں ،خوراک، تقسیم کرنے کے مراکز کو وہ تباہی کے جال کے طور پر استعمال کررہے ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر بھوک سے بےحال درجنوں فلسطینی خودکار گولیوں کی زد میں آ کر شہید ہو رہے ہیں۔
’ہم اپنی اقدار کی پاسداری کرتے ہیں‘، کہنے والے مغرب کو اس میں کچھ بھی غلط نظر نہیں آتا،انہوں نے کہا کہ پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے کہ کسی بھی جنگ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعما ل کی جا رہا ہے حالانکہ اس سے پہلے ایسا کبھی بھی نہیں ہوتا تھا۔
انہوں نے کہا جو عنصر حیران کردینے والا ہے وہ یہ ہے کہ کیسے جمہوری مغربی ممالک جن میں امریکا، برطانیہ، جرمنی اور فرانس قابلِ ذکر ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ قواعد پر مبنی عالمی نظام پر یقین رکھتے ہیں، انہوں نے غیر مشروط طور پر نیتن یاہو کی حمایت کی اور عرب یا مسلم حکومتوں نے کس طرح اسرائیل کو ساز و سامان مہیا کرکے فلسطینیوں کے قتلِ عام میں شراکت کی۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ غزہ میں اپنے طور پر کسی حتمی حل پر عمل درآمد کیا جارہا ہے جہاں گھروں سے لے کر تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں تک تمام انفرااسٹرکچر کو تباہ کیا جا چکا ہے۔
کیا امریکہ صد ر ٹرمپ نیتن یاہو سے ناراض ہیں ؟
اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ ٹرمپ ایک طرف جنگ بندی کرا کر اپنا نام نوبل پرائز کے لیے لکھوانا چاہتے ہیں دوسری طرف نیتن یاہو کبھی شام پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور کبھی غزہ میں مظلوم نہتے شہریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے، ان کی ضد اور انا کی وجہ سے ابھی تک غزہ میں بھی امن نہیں ہو سکا۔
کوئٹہ میں دہرےقتل کے حیران کن انکشافات!
انہوں نے کہا کی ایک ایسا ملک جہاں خاص طور پر قانون سازی کے لیے ادارے موجود ہیں،ان کے ہوتے ہوئے کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ متوازی نظام قائم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام کسی صورت غیرت کے نام پر قتل کی اجازت نہیں دیتا۔ ایسی سفاکانہ حرکات کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جا سکتیں،انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اس انسانیت سوز ظلم میں ملوث عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین کومبارک ہو،پی ڈی ایم کو سپورٹ کرتے ہوئے تمام پارٹیوں کے سینیٹر بنوادیئے،ایمل ولی