وہ کیا ہے جسے کھاکر آس پاس ننھے انسان رینگتے دکھائی دیتے ہیں؟

Jan 22, 2026 | 22:45:PM
وہ کیا ہے جسے کھاکر آس پاس ننھے انسان رینگتے دکھائی دیتے ہیں؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)چین کے یونان صوبے کے ایک ہسپتال میں ہر سال ڈاکٹروں کو ایک عجیب و غریب مسئلے کے ساتھ مریضوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،وہ مریض یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں چھلاوے نما چھوٹے انسان نظر آتے ہیں جو دروازوں کے نیچے رینگتے، دیواروں پر چڑھتے اور فرنیچر پر جمے ہوئے ہوتے ہیں۔

 غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہسپتال میں ہر سال سیکڑوں ایسے کیسز آتے ہیں اور سب کا مشترکہ سبب ہے لینماوا آسیٹیکا نامی مشروم جو پائن کے درختوں کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اور یونان میں ایک مقبول خوراک کے طور پر استعمال ہوتا ہے،یہ مشروم عام طور پر مارکیٹوں، ریستورانوں اور گھروں میں جون سے اگست کے درمیان دستیاب ہوتا ہے اور لوگ اس کو رغبت سے کھاتے ہیں۔

 ہیلوسینیشن سے بچنے کے لیے پکا کر کھائیں ؛
یہ مشروم اگر اچھی طرح نہ پکایا جائے تو چھوٹے انسانوں کے ہیلوسینیشنز پیدا ہو جاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف یوٹاہ کے بایولوجی کے ڈاکٹورل طالب علم کولن ڈومناور کے مطابق ریسٹورنٹ میں سرور نے 15 منٹ کا ٹائمر لگایا اور خبردار کیا کہ ٹائمر ختم ہونے سے پہلے نہ کھائیں ورنہ چھوٹے لوگ دکھائی دیں گے۔

تاریخی حوالہ جات اور عالمی مشاہدات ؛
سنہ1960 کی دہائی میں امریکی مصنف گورڈن واسن اور فرانسیسی نباتات دان راجر ہیم نے پاپوا نیو گنی میں اسی طرح کے مشاہدات کیے تھے جنہیں بعد میں ‘مشروم کی دیوانگی’ کہا گیا۔

 سنہ1991  میں چینی سائنسدانوں نے پہلی بار ایل ایشیاٹیکا کھانے والے افراد میں ہیلوسینیشن کی رپورٹ دی۔ مریضوں نے بتایا کہ یہ چھوٹے ہیلوسینیشنز ان کے کپڑوں، برتنوں اور کھانے کے دوران بھی نظر آتے تھے اور آنکھیں بند کرنے پر یہ مزید واضح ہو جاتے تھے۔ 

ڈومناور کی تحقیق
ڈومناور نے سنہ 2023 میں یونان کا دورہ کیا اور مارکیٹ سے وہ مشروم خریدا جو چھوٹے لوگ دکھاتا ہے۔ لیبارٹری میں جینیاتی ٹیسٹ سے ایل ایشیاٹیکا کی شناخت ہوئی اور چوہوں پر کیے گئے تجربات میں وہی رویہ ظاہر ہوا جو انسانی ہیلوسینیشنز میں دیکھا گیا۔ چوہے ابتدا میں زیادہ متحرک اور بعد میں طویل مدتی سست روی کا شکار ہوئے۔

مزید پڑھیں: دیر کے جنگلات سے ملنے والا قدرتی مشروم اتنا مہنگا کیوں فروخت ہوتا ہے؟

 فلپائن میں بھی اسی طرح کے مشروم ملے، جو چینی مشروم سے کچھ چھوٹے اور ہلکے گلابی تھے، لیکن جینیاتی ٹیسٹ نے ثابت کیا کہ یہ بھی وہی نسل ہیں۔

ایک انوکھی خصوصیت
ڈومناور کے مطابق، ایل ایشیاٹیکا کے ہیلوسینیشنز بہت مستقل اور بار بار دہرائے جانے والے ہیں جو کسی اور معروف سائیکڈیلیک مشروم میں نہیں دیکھا جاتا۔ یہ ہیلوسینیشنز عام طور پر 12 سے 24 گھنٹے تک رہتی ہیں اور بعض کیسز میں مریضوں کو ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔

ممکنہ سائنسی فوائد
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مشروم کے مطالعے سے دماغ میں لِلِپُوٹین ہیلوسینیشنز کی وجوہات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے اور مستقبل میں نئے علاج یا دوائیں دریافت ہو سکتی ہیں۔ 

فنگائی کی حیرت انگیز دریافتیں
ماہر فنگائی جولیانا فرچی کہتی ہیں کہ دنیا کی صرف 5 فیصد فنگائی کی اقسام دریافت ہو چکی ہیں اور ایل ایشیاٹیکا جیسی تحقیقات سے یہ پتا چلتا ہے کہ فنگائی میں اب بھی بے پناہ بایو کیمیکل اور فارماکولوجیکل امکانات موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں ؛  سعودی شہزادہ فیصل بن ترکی بن عبداللہ انتقال کرگئے