بانی پی ٹی آئی نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز کو ٹھوکر مار دی:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا پر مذاکرات سے انکار کا تازہ بیان کوئی نیا نہیں، جب بھی بات بننے لگتی ہے، اس کو سبوتاژ کرتے ہیں، میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اب وہ کیا کرنے کا جا رہے ہیں۔
24 نیوز کے پروگرام ’’دی سلیم بخاری شو‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ تو بانی پی ٹی آئی کو خود نہیں پتہ کہ کیا کرنے جا رہے ہیں میں کیا کہہ سکتا ہوں۔یہ رویہ بانی کی جانب سے پہلی بار نہیں ہے کیونکہ جب بات بننے لگتی ہے تو عین موقع پر بانی خود ان مذاکرات کو سبوتاژ کر دیتے ہیں۔
سلیم بخاری نے کہا کہ اختر مینگل کو تو پتہ ہونا چاہئے کہ جو بھی ان کے ساتھ چلتا ہے، اس کا پھر اللہ ہی حافظ ہے، علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی نے جو مذاکرات کی کوشش کی تھی، ان کو بھی احساس تھا کہ اب معاملات کا سیاسی حل نکالا جائے جس کا اظہار انہوں نے کیا بھی ہے لیکن اب خان صاحب کی اس ٹوئیٹ نے تو ان کی اس سوچ اور سیاسی بصیرت کا دھڑن تختہ ہی کر دیا ہے۔
کیا بانی اپنے پاؤوں پر خودہی کلہاڑی مارہے ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بے شک بانی اسی شاخ کو کاٹ رہے ہیں جس پر وہ خود بیٹھے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو شائد اس بات کا زعم ہے کہ ان کے پیچھے عوام کا بہت بڑا ووٹ بینک ہے اور وہ ان کو آؤٹ آف کورٹ جیل سے بھی نکال سکتا ہے اور ان کے لیے ایک ایسے انقلا ب کا باعث بھی بن سکتا ہے جوکہ ملک میں کوئی نمایاں تبدیلی لے آئیں جبکہ یہ ایسا ہی ہے کہ آپ اپنی قوت کے نیچے خود ہی ٹائم بم بھی خود ہی رکھ رہے ہیں,مذاکرات سے پھر انکار،لیکن بانی چاہتے کیا ہیں؟ بانی پی ٹی آئی کا رویہ سیاسی نہیں فسطائی ہے۔
بخاری صاحب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا رویہ سیاسی نہیں فسطائی ہے ، یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا مائنڈ سیٹ ہے کیا ؟ ان کو فوج لیکر آئی تھی، ان کی کوئی آرگنائزڈ پارٹی بھی نہیں تھی اور نہ ہی کوئی الیکٹ ایبل تھے۔
فیض حمید نے ان کو لوگ اکٹھے کر کے دیئے تھے اور حکومت بنوائی تھی لیکن پھر بانی نے الزام لگایا کہ فوج نے ان کو اقتدار سے نکالا پھر انہوں نے جنرل باجوہ اور فیض حمید کی جو درگت بنائی وہ سب کے سامنے ہے پھر ان کا خیال تھا کہ یہ فوج ان کو دوبارہ لیکر آئے گی۔اسی لیے انہوں نے کہا کہ میں تو ان سے ہی بات کروں گا، ان کے علاوہ کسی سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، باقی سب سیاستدان چور ہیں، ڈاکو ہیں میں انکو جیلوں میں بھر دوں گا۔
اسرائیل، ایران صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بخاری صاحب نے کہا کہ اصل بات یہ کہ نیتن یاہو اور اسرائیل کارروائی کرنا چاہتے ہیں، لبنان میں یمن میں اور شام میں ان کو ڈر یہ ہے اور یہ ڈر بجا طور درست بھی ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو ایک ہی ملک ہے جو مدافعت کرے گا اور وہ ہے ایران اس لیے وہ بہانہ بنا رہا ہے کہ ایران نیوکلیئرسسٹم اپ ڈیٹ کر رہا ہے اور اپنا میزائل سسٹم بنا رہا ہے۔
اس لیے کوئی کاروائی کر لیں تاکہ اس کو روکا جاسکے اور وہ ان ممالک کی مدد کو نہ آسکے,وہ آشیرباد لینے ٹرمپ کے پاس گئے ہیں لیکن ٹرمپ صا حب اب تھوڑے سمجھدار ہو گئے ہیں، انہوں نے جو کچھ دن پہلے جو بات یہودی لابی کے لیے کی تھی وہ پیغام ہمارے لیے نہیں بلکہ نیتن یا ہو کے لیے تھا۔ کہ بس کافی ہے ا ب اس سے زیادہ کی توقع نہ رکھنا میں نے جو کچھ کرنا تھا کر دیا ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپی اور مغربی ممالک امریکہ کے اتنے خلاف ہوگئے ہیں کیونکہ وہ اہل غزہ کی خون ریزی میں جس حد تک چلے گئے ہیں۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے اپنی چودہراہٹ بھی تو ان ممالک پر قائم رکھنی ہے اس لیے اب ٹرمپ نیتن یاہو کی بات مانتے ہیں یا نہیں دیکھیں۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان عالمی سطح پر اپنا منفرد مقام بنا چکا ہے: بلاول بھٹو زرداری