بولیویا نے ڈیزل پر سرکاری سبسڈی ختم کردی

Sep 21, 2026 | 10:45:AM
بولیویا نے ڈیزل پر سرکاری سبسڈی ختم کردی
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )بولیویا نے ملک میں جاری ایندھن کی قلت پر قابو پانے کے لیے ڈیزل پر دی جانے والی سرکاری سبسڈی ختم کرنے کا اعلان کردیا، جس کے بعد ملک میں ایندھن کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے نرخوں سے منسلک ہوں گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بولیویا کے صدر روڈریگو پاز نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ڈیزل کی قیمت اب حکومت کی جانب سے مقررہ سبسڈی کے بجائے بیرونِ ملک سے درآمد کی جانے والی لاگت کے مطابق طے کی جائے گی۔

بولیویا اپنی ڈیزل کی تقریباً 90 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے۔ صدر روڈریگو پاز کے مطابق حکومت ہر ہفتے تقریباً 55 ملین ڈالر ڈیزل سبسڈی پر خرچ کر رہی تھی، جبکہ ایندھن کی اسمگلنگ اور بلیک مارکیٹ میں دوبارہ فروخت بھی حکومتی خسارے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

صدر نے کہا کہ اب ڈیزل کی قیمت وہی ہوگی جو حکومت کو بیرونِ ملک سے خریداری پر ادا کرنا پڑتی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت مقامی ڈیزل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے نرخوں کے مطابق بڑھ یا کم ہوسکیں گی۔

 یہ بھی پڑھیں:اہم اسلامی ملک میں ڈیزل مہنگا! قیمت میں 17.4 فیصد اضافہ

یہ فیصلہ اگست میں متعارف کرائے گئے دوہری قیمتوں کے نظام کی جگہ لے گا۔ اس نظام کے تحت زیادہ مقدار میں ڈیزل استعمال کرنے والے صارفین سے 18 بولیوینوس فی لیٹر جبکہ دیگر صارفین سے سبسڈی شدہ 9.80 بولیوینوس فی لیٹر وصول کیے جارہے تھے۔

حکومت نے ڈیزل سبسڈی ختم کرنے سے گھریلو صارفین اور اہم معاشی شعبوں پر پڑنے والے مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے امدادی اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے، جن میں براہِ راست نقد امداد اور ترجیحی قرضوں کی سہولت شامل ہے۔

بولیوین حکومت کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد ایندھن کی قلت، حکومتی مالی بوجھ اور ڈیزل کی اسمگلنگ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنا ہے۔