صدر ٹرمپ کی دھمکی کے بعد کولمبیا نے امریکا میں تعینات اپنے سفیر کو واپس بلا لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک )کولمبیا نے امریکا میں تعینات اپنے سفیر کو فوری طور پر واپس بلا لیا ، یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کولمبیا پر نئی تجارتی پابندیاں عائد کرنے اور تمام مالی امداد بند کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار کو کولمبیا کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے صدر گستاوو پیٹرو کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے انہیں ”منشیات کا غیر قانونی لیڈر“ قرار دیا تھا، جس پر کولمبیا کی حکومت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اِن الفاظ کو ”توہین آمیز“ قرار دیا ہے۔
کولمبیا کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا ہے کہ، ”کولمبیا کے امریکا میں سفیر ڈینیئل گارسیا-پینا کو صدر پیٹرو کی ہدایت پر مشاورت کے لیے واپس بلا لیا گیا ہے اور وہ اس وقت بوگوٹا میں موجود ہیں۔ آنے والے چند گھنٹوں میں حکومت مزید فیصلوں کا اعلان کرے گی۔“
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے الزامات کے بعد کولمبیا کی کرنسی پیر کے روز ابتدائی تجارتی سیشن میں 1.4 فیصد کمزور ہو کر تین ہزار 889 پیسوز فی امریکی ڈالر پر آ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آئی فون 17 کی فروخت نے تمام ریکارڈ توڑ دئیے
کولمبیا کو اِس وقت امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات میں شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ کولمبین-امریکن چیمبر آف کامرس کے مطابق امریکا کولمبیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔کولمبیا کی 35 فیصد برآمدات امریکا جاتی ہیں، جبکہ 70 فیصد درآمدات امریکا سے آتی ہیں، جن میں اکثریت ایسی اشیاء ہیں جو کولمبیا میں تیار نہیں ہوتیں۔
صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے لیے مالی امداد بند کرنے کا اعلان بھی کیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس امداد کا حوالہ دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ کولمبیا ماضی میں یو ایس ایڈ (امریکی انسانی امدادی ادارے) کے تحت مغربی نصف کرہ میں سب سے زیادہ امداد حاصل کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔ تاہم رواں برس یہ امداد اچانک بند کر دی گئی تھی۔