خوش رہنا بہت آسان مگر لوگوں نے اسے مشکل بنا دیا:ڈاکٹر کاشف فراز
معلوم نہیں کس نے بتا دیا کہ بل گیٹس کی دولت مل جائے تو میں خوش قسمت انسان بن جاؤں گا،مارننگ ودفضامیں گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
( 24نیوز ) ماہر نفسیات اور موٹیویشنل سپیکر ڈاکٹر کاشف فرازنے کہا ہےکہ خوش رہنا بہت آسان ہے مگر لوگوں نے اسے مشکل بنا دیا ہے ۔
24نیوزکے پروگرام ’’مارننگ ودفضا‘‘میں گفتگوکرتے ہوئے ماہر نفسیات اور موٹیویشنل سپیکر ڈاکٹر کاشف فراز نے کہاکہ کوئی آپ کو ٹھنڈے پانی کا گلاس یا چائے پیش کرے کوئی آپ کے لئے دروازہ کھولے ، کوئی اسلام و علیکم کہے، کوئی آپ سے کہے آج آپ کا دن کیسا گزرا ہے ، باہر نکلیں تو کہے آپ کو دیکھ کر بہت اچھا لگا، کوئی آپ سے مل کر کہے آپ آئے تو رونق آ گئی تو سوچیں کہ کیا یہ نعمت کسی شہزادے کو دستیاب ہے جو آپ کو ملی ہوئی ہے ، اس نعمت کو انجوائے کرنے کا نام خوشی ہے جو ہم نے چھوٹی چھوٹی چیزوں سے کشید کرنا چھوڑ دی ہے۔
ڈاکٹر کاشف فراز نے کہا کہ معلوم نہیں کس نے بتا دیا کہ بل گیٹس کی دولت مجھے مل جائے تو میں خوش قسمت انسان بن جاؤں گا یا کسی ملک کا سربراہ بن کر خوشی حاصل ہو گی ، جس کے جہاز چلتے ہیں ، زمینیں ہیں ، فیکٹریاں ہیں وہ بہت خوش ہیں ، خوش تو وہ مزدور بھی ہیں جو قہقہے لگاتے سڑک پر ناشتہ کر رہے ہوتے ہیں ، بچے موٹر سائیکل پر باپ کے ساتھ جا رہے تھے مسکراتے خوش ہوتے ایک باپ کی خوشی کو محسوس تو کریں۔
ڈاکٹر کاشف فراز نے کہا کہ یہ درست ہے کہ خوشی کیلئے پیسہ چاہیے ، گھر اور اچھی جاب بھی چاہیے، اچھی خوراک اور اچھا لباس بھی چاہیے لیکن کیا یہی خوشی کے ذرائع ہیں ، جن کے پاس دولت ہے وہ بھی کسی بات پر دکھی یا رنجیدہ ہیں ، جو پاکستان کے پانچ امیر ترین افراد ہیں ان میں سے ایک کا بیٹا ذہنی معذور تھا وہ کہتے کاش کوئی نارمل بیٹا بھی ہوتا ، چوکیدار یا ملازم کہتا ہے اللہ نے چار بیٹے اور دو بیٹیاں دی ہیں بس مجھے ان کی بہتر پرورش کے وسائل مل جائیں تو ٹھیک ہے ، فیکٹری والا اور بچوں والا دونوں خوشی کیوں محسوس نہیں کر رہے ، کسی روتے کو ہنسانا ، کسی کی تعریف کر دینا ، گھر آکر بیوی ، بیٹی یا بیٹے کا شکریہ ادا کرنا کہ انہوں نے اسکے کام کر دئیے ، آپ کسی کی سُن ہی لیں ، جب آپ کسی ملازم کی شکایت سنتے ہیں کسی کو عزت دیتے ہیں تو اس کو خوشی ملتی ہے ، کسی کو حوصلہ دینے سے بہت سے شکوے شکایتیں دور ہو جاتی ہیں ، لوگوں کی بات سن لیں ، ان کے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا ۔

ڈاکٹر کاشف فراز کے مطابق برطانیہ کی ییل یونیورسٹی کی324 سال کی تاریخ میں سب سے بڑی کلاس کا ریکارڈ ڈاکٹر لائری سنٹوس کا ہے ,12 سو بچوں نے ایک کلاس میں داخلہ لیا ، وہ اپنی کلاس میں 25 طریقے بتاتی تھیں ، پہلا طریقہ دن میں ایک بار تین نعمتیں گنو ، اور اسکو لکھ لو ، سات دن تک یہ روزانہ لکھو ، ایک ہفتے میں 21 نعمتیں ہو گئیں، اس لکھنے کی وجہ سے تمہیں خوشی ملنا شروع ہو جائے گی ، دوسرا انہوں نے کہا کہ آٹھ گھنٹے نیند پوری کرو ، غم یا اداسی کی کیفیت میں سو جاؤ ، تیسرا کہا ہفتے میں تین بار پوری فیملی نے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھا نا ہے، چوتھی بات پودوں کے ساتھ وقت گزاریں ان سے باتیں کریں ، اپنے پرندوں اور پالتو جانوروں سے باتیں کریں جتنے پریشان ہیں اتنی بات بڑھا دیں ، جتنی تھکاوٹ بڑھتی جائے گی اتنا ہی ڈوپامن لیول بڑھتا ہے، ایکسرسائز کریں پندرہ منٹ بعد آپ خود خوش ہونا شروع ہو جائیں گے ، کسی غریب کی مدد کریں ، بے شک وہ ایک پلیٹ کھا نا ہو ،یا کچھ بھی ہو ، جب بہت زیادہ پریشان ہوں تو برف کے ٹھنڈے پانی سے نہائیںگے آپ کی خوشی کا لیول 250 فیصد بڑھ جائے گا ، کوئی اچھی خوشبو لگا لیں اسے پھیلائیں ، بہت زیادہ غم ہو تو دو گلاس پانی پئیں ، ہائیڈرو تھراپی سے غم آدھا ہو جائے گا ، کوئی دن ایسا رکھ لیں ، جب کوئی شکایت یا شکوہ نہیں کرنا، نو کمپلینٹ ڈے ، پھر نو کمپلینٹ ویک اور پھر نو کمپلینٹ منت رکھ لیں ، اور پھر نو کمپلینٹ ائیر رکھ لیں ، اپنے گھر اور دفتر میں جدت پسندی لائیں، تبدیلی کرتے رہیں گاڑی میں تبدیلی لائیں ، بلاوجہ ٹیلی فون کرکے اپنے دوستوں کو مبارکباد دیں ، اچھے دن کی مبارکباد ، دوستوں کی ون ڈش پارٹی رکھیں ، یہ بھول جائیں کہ لوگ کیا کہیں گے ، صدقہ خیرات دیں ، یہ فیصلہ اللہ کو کرنے دیں کہ کوئی اسکا اہل ہے کہ نہیں ۔
یہ بھی پڑھیں:اوورسیزپاکستانی گاڑی کی خرید وفروخت پر بائیو میٹرک گھربیٹھے کرواسکیں گے
ڈاکٹر کاشف فراز نے بابا جی اشفاق احمد کا واقعہ سنایا کہ ایک مرتبہ انکے ساتھ تھا تو پیسے دیتے ہوئے میں نےکہا کم پیسے بنتے ہیں تو بابا جی نے کہا دے دو ہم نے کونسا اپنے پیسوں میں سے دینے ہیں جس نے دئیے ہیں اس سے دینے ہیں تو دے دو ، پھر لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کریں ، کسی کو سڑک پار کرانا یا سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے میں مدد کرنا ، یکسانیت سے بچنے کیلئے سفر کریں ، بے شک واک کرنا شروع کر دیں ، لانگ ڈرائیو پر نکل جائیں ، پرانی عمارت کو وزٹ کریں ، ہندی کی کہاوت ہے کہ اگر کچھ ہونا ہے تو غم کس بات کا ، اگر کچھ نہیں ہونا تو غم کس بات کا ، لائف سٹائل تبدیل کریں ، یکسانیت سے بچیں گے تو جسم ہارمون کی تبدیلی پیدا کرے گی ، نئے رنگ ، نئے کپڑے کیوں پہنتے ہیں ، سورج کو طلوع ہوتے اور غروب ہوتے دیکھیں یہ منظر دیکھیں یہ بھی خوشی کے ہارمون پیدا کرتا ہے ، وٹامن ڈی خوشی پیدا کرتا ہے ، موسم کی تبدیلی کا مزا لو ، بھوک لگے تب کھا ئیں خوشی اور توانائی دونوں ملیں گے ، ہفتے میں ایک بار روزہ رکھیں ، آپ کو خوشی ملے گی ، ڈاکٹر لائری سنٹوس کے ان پچیس طریقوں پر عمل کرکے آپ خوش رہ سکتے ہیں ۔