روس ایران کی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے، صدر پوتن کا نوروز پر دبنگ اعلان

Mar 21, 2026 | 19:32:PM
  روس ایران کی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے، صدر پوتن کا نوروز پر دبنگ اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) روس کے صدر پوتن نے ایک بار پھر ایران کی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ پوتن نے کہا کہ ایران روس کا  قابلِ اعتماد دوست ہے، ایران کی غیر مشروط حمایت جاری رکھیں گے۔
 آج سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق  روس کے  صدر ولادیمیر پوتن نے نوروز  پر ایران کی حکومت اور عوام کے نام تہنیتی پیغام میں ایران کو  اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے  صدر ولادیمیر پوتن نے نوروز کے رسمی پیغام میں سیاسی پیغام بھی دیا۔ پوتن نےاس عزم کا اعادہ کیا  کہ روس ایران کی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔

صدر پوتن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری مستحکم ہے۔میں ایرانی عوام کے لیے ان مشکل حالات میں ثابت قدمی، طاقت اور حوصلے کی دعا کرتا ہوں۔ 

میڈیا رپورٹس کے مطابق پچھلے کچھ مہینوں میں جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کئے تب اور اس کے بعد روس نے سفارتی سطح پر ایران کی سرگرم حمایت کی۔  ایرانی صدر اور صدر  پوتن کے درمیان ملاقاتوں اور معاہدوں نے اس شراکت داری کو مزید مضبوط کیا ہے۔ تاہم گزشتہ روز یہ خبریں سامنے آئی تھین کہ روس نے امریکہ کے دباؤ پر ایران کے ساتھ "انٹیلی جنس شئیرنگ" کے عمل کو محدود کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  امریکہ ایران میں فوج بھیجنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، امریکی نیوز آؤٹ لیٹ کا انکشاف

 نوروز کے پیغام کے ساتھ سامنے آنے والے اس بیان کو روس کی جانب سے ایران کی کھلی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے روس زیادہ تر کشیدگی کم کرنے کی بات کرتا رہا تھا۔

 صدر پوتن نے امریکہ کے صدر ٹرمپ سے گفتگو میں جنگ بندی کی تجویز بھی دی تھی، جس میں ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کا منصوبہ شامل تھا تاہم  صدر ٹرمپ نے ایرانی یورینیم کو روس لے جانے کی تجویز کو مسترد کر دیا، آج ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک بار پھر صحافیوں کے سامنے دہرایا کہ وہ جنگ بندی کا کوئی ارادہ نہین رکھتے۔ جنگ بندی کی طرف جانے کی کوئی وجہ نہیں۔ 

ایران جنگ کے تین ہفتوں کے دوران روس پر یہ الزام بھی لگایاجاتا رہا ہے کہ وہ ایران کو امریکی فوجی اڈوں اور دیگر اہداف کے متعلق حساس معلومات ایران کے ساتھ شئیر کر رہا ہےلیکن روسی حکام نے کبھی اس طرح کی کوئی مدد دینے کو تسلیم نہیں کیا۔