نقصان میں چلنے والے یوٹیلیٹی سٹورز بند،ملازمین کو فارغ کرنیکا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وفاقی حکومت نے نجکاری منصوبے کے تحت نقصان میں چلنے والے سینکڑوں یوٹیلیٹی سٹورز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سینیٹر عون عباس کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس ہوا، جس میں یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے مستقبل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزارت صنعت و پیداوار سے یوٹیلیٹی سٹورز کارپویشن کے ملازمین کے مستقبل سے متعلق پلان مانگ لیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ یوٹیلیٹی سٹورز حکومت کی نجکاری فہرست میں شامل ہیں، تاہم دو سالہ آڈٹ نہ ہونے کے باعث نجکاری کا عمل رک گیا ہے، آڈٹ اگست 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں خسارے میں چلنے والے 800 یوٹیلیٹی سٹورز بند کردیے، ابھی بھی 2600یوٹیلیٹی سٹورز موجود ہیں،ایک ہزار فرنچائزسٹورزہیں، منافع میں چلنے والے صرف1500سٹورز رہیں گے،باقی بند ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بینکوں سے لین دین کرنے والوں کیلئے اہم خبر
سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک بھر میں 3200 سے زائد یوٹیلیٹی سٹورز موجود ہیں، جن میں سے 1700 نقصان میں چل رہے ہیں اور انہیں بند کیا جائے گا، نجکاری کے بعد صرف 1500 سٹورز کے لیے عملہ درکار ہو گا، جبکہ باقی ملازمین کو سرپلس پول میں بھیج دیا جائے گا۔
حکام کے مطابق یوٹیلیٹی سٹورز کے 5000 ملازمین ریگولر، جبکہ 6000 کے قریب کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں، مستقل ملازمین کو سرپلس پول میں شامل کیا جائے گا جبکہ کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو کوئی پیکج نہیں دیا جائے گا اور نجکاری کے بعد انہیں فارغ کر دیا جائے گا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کا ماہانہ خرچ ایک ارب 2 کروڑ روپے تھا، تاہم نقصان میں چلنے والے اسٹورز بند کرنے سے یہ کم ہو کر 52 کروڑ روپے رہ گیا ہے، ایک ماہ میں نقصان 22 کروڑ روپے کم ہوا اور مجموعی نقصان 17 کروڑ روپے کم ہو کر 50 کروڑ روپے تک آ گیا ہے۔
سنیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت وپیداوار کے اجلاس میں شوگر شوگر ایڈوائزری بورڈ کے کردار ملک میں چینی کے کی پیداوار دستیابی پر بریفنگ مانگی گئی تھی مگر معاون خصوصی ہارون اختر اور سیکرٹری کی عدم شرکت پر کمیٹی ارکان برہم ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں:روپے کی بے قدری جاری، ڈالر مزید مہنگا ہو گیا
کمیٹی نے أئندہ اجلاس میں مسابقتی کمیشن کو طلب کرلیا۔ چئیرمین کمیٹی بولے اس وقت ملک میں 44 فیصد شوگر ملز ان خاندانوں کی ہیں جو سیاسی ہیں۔ حکومت نے اس مالی سال میں سات لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی جب چینی ملک میں سرپلس تھی تو ہی برآمد کی اجازت دی ہوگی۔
پھر بتایا جائے ملک میں چینی کی قیمتیں کیوں بڑھیں۔شوگر ملز مالکان کرشنگ سیزن کے آخر میں قیمتیں بڑھا لیتے ہیں۔ ہم مسابقتی کمیشن اف پاکستان اور شوگر مل اونر کو بلائیں گے۔ پوچھیں گے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیسے ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل،صارفین پریشان