پروگرام نورِ سحرمیں روح پرور اور بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد

Oct 20, 2025 | 16:10:PM
 پروگرام نورِ سحرمیں روح پرور اور بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

معروف ٹی وی پروگرام نورِ سحرمیں روح پرور اور بصیرت افروز علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع "شیخِ اکبر محی الدین ابن عربیؒ – ایک انقلاب آفریں شخصیت" تھا ۔

میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہا کہ حضرت محی الدین ابن عربیؒ، وہ نابغہ روزگار صوفی اور مفکر ہیں جنہوں نے علم، تصوف اور عرفان کے میدان میں ایسی بے مثل خدمات انجام دیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی تصانیف کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کرتی ہے، جن میں فتوحاتِ مکیہ اور فصوص الحکم کو غیرمعمولی شہرت حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ فتوحات مکیہ جیسی کتاب نہ اس سے پہلے لکھی گئی اور نہ آئندہ لکھی جائے گی۔ اس کتاب کو مکمل کرنے میں 35 برس صرف ہوئے اور اسے حرمین شریفین میں مکمل کیا گیا۔ انہوں نے امام شعرانیؒ کا قول بھی ذکر  کیا کہ "شیخ اکبر کو لوگوں نے سمجھا ہی نہیں، اور ان کی بعض کتب میں الحاقی باتیں بھی شامل کر دی  گئیں۔"

انہوں نے کہا کہ شیخ اکبرؒ نے حضرت خضرؑ سے تین علوم سیکھے،(1)سمندروں پر چلنے کا علم،(2)تھوڑے وقت میں طویل فاصلے طے کرنے کی صلاحیت،(3)فضا میں نماز ادا کرنے کی قدرت۔

ڈاکٹر مظہر حسین بھدرونے کہا کہ  شیخ اکبر محی الدین ابن عربی علیہ 560 ہجری کو اندلس میں پیدا ہوئےاور آپ عربی النسل تھے اور 30 سال کی عمر میں انہوں نے اندلس سے باہر پہلا سفر کیا اور تیونس گئےاور اسی سفر کے دوران آپ کی ملاقات ابو محمد عبدالعزیر سے ہوئی تو انہوں نے فرمائش کی کہ آپ اندلس کے  ان اولیاء کا تذکرہ مرتب کریں جن کے ساتھ آپکے رابط ہیں تو آپ نے روح القدس کتاب لکھی جس میں ان صوفیاکا  تذکرہ ہے جن سے آپ کی ملاقات ہوئی ۔

پروفیسر ڈاکٹر مجاہد احمد نے کہا  کہ ابن عربیؒ خود فرماتے ہیں کہ ان کی تصانیف ارادی نہیں بلکہ غیر ارادی طور پر لکھی گئیں۔ جو کچھ الہام و کشف کے ذریعے منکشف ہوتا، وہ اسے قرطاس پر منتقل کر دیتے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ مریم بنت محمد بھی صاحبِ کشف تھیں اور ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں راہِ طریقت کے اصول سنے اور ابن عربیؒ نے فرمایا: "یہی تو میرا راستہ ہے!"

انہوں نے شیخ اکبرؒ کا ایک خواب بھی ذکر کیا کہ  انہوں نے حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور نبی کریم ﷺ کی زیارت کی۔

پروفیسر سید فہد علی کاظمی نے کہا کہ ابن عربیؒ کے افکار ایک بے کنار بحرِ عرفان ہیں جنہیں محض مطالعے سے نہیں بلکہ سلوک، مجاہدہ اور روحانی تربیت سے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان کی کتابیں عام قاری کے لیے نہیں بلکہ اُن صوفیاء کے لیے تھیں جو پہلے ہی روحانی منازل طے کر چکے ہوں۔

انہوں نے بین الاقوامی اسکالر کلاؤڈایڈاس کی کتابوں کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغرب میں اس وقت شیخ اکبر پر سب سے زیادہ تحقیقی کام ہو رہا ہے، جبکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک ان کی اصل شخصیت اور مقام سے ناواقف ہے۔

انہوں نے کہا  کہ ابن عربی  چودہ سال کی عمر میں بادشاہ کے شہزادے کے ساتھ گھوڑے پر سوار تھے کہ نماز کا وقت ہوا،جب دونوں نے سجدہ کیا، تو ابنِ عربیؒ کے دل میں نور کی کرن پھوٹیکہ یہ بادشاہ بھی اللہ کے حضور سجدہ ریز ہے، تو پھر میں بادشاہ کا وزیر کیوں بنوں؟، اس حقیقی بادشاہ کا بندہ کیوں نہ بن جاؤں؟