پی ایم ڈی سی اور نجی میڈیکل کالجز کے درمیان تصادم کو ختم کرنے کیلئے اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل 

Nov 20, 2025 | 21:21:PM
پی ایم ڈی سی اور نجی میڈیکل کالجز کے درمیان تصادم کو ختم کرنے کیلئے اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(بابر شہزاد تُرک)پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) اور نجی میڈیکل کالجز کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کو ختم کرنے کیلئے وزیراعظم کی منظوری سے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ہائی پاورڈ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، وفاقی وزارت صحت کے مطابق کمیٹی پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیوشنز (پیامی) کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کا جائزہ لے گی۔

یہ کمیٹی گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ریگولیٹر اور نجی کالجز کے درمیان فیسوں کی حد، ریگولیٹری اختیارات اور پی ایم ڈی سی کی جانب سے منظور شدہ حد سے زیادہ فیس لینے والے اداروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد بنائی گئی ہے، پی ایم ڈی سی نے اپنی نظرِ ثانی شدہ پالیسی کے تحت نجی میڈیکل کالجز کی سالانہ فیس 18 لاکھ 90 ہزار سے 25 لاکھ روپے تک مقرر کی ہے اور اداروں کو کسی بھی اضافے کی واضح وجہ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ 

متعدد کالجز کو حکم عدولی پر نوٹس جاری کیے گئے، جس کے بعد پیامی نے فیصلہ عدالت میں چیلنج کر دیا اور ریگولیٹر پر ’’بے جا مداخلت‘‘ کا الزام عائد کیا، 24 نیوز کو موصول ہونے والے وفاقی وزارت قومی صحت کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی کمیٹی میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیئرمین پی ایل کے آئی ڈاکٹر سعید اختر، میجر جنرل (ر) اظہر کیانی، سیکریٹری صحت، صدر پی ایم ڈی سی اور پیامی کے نمائندگان شامل ہیں۔ وزارت صحت کمیٹی کو سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گی، جبکہ کمیٹی کو اپنی رپورٹ 10 روز میں پیش کرنا ہو گی۔

 ذرائع کے مطابق دونوں جانب سے مؤقف سخت ہونے اور نئے داخلوں کے سیشن سے قبل پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے بعد وزیراعظم نے معاملے میں براہِ راست مداخلت کی ہے۔ پیامی کا مؤقف ہے کہ داخلوں، ایکریڈیٹیشن معیار اور فیس ریگولیشن میں ’’غیر ضروری مداخلت‘‘ کی جا رہی ہے، جبکہ پی ایم ڈی سی کا کہنا ہے کہ وہ قانون کے مطابق طلبہ کو غیر منصفانہ مالی بوجھ سے بچانے کے لیے کارروائی کر رہی ہے، کمیٹی کو پیامی کے تحفظات کا تفصیلی جائزہ لینے، ایکریڈیٹیشن اور داخلہ پالیسیوں کا دوبارہ مطالعہ کرنے اور یہ جانچنے کی ذمہ داری دی گئی ہے کہ موجودہ ریگولیٹری فریم ورک میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ کمیٹی فیس میں اضافے کی وجوہات اور پی ایم ڈی سی کی جانب سے کیے گئے نفاذی اقدامات کا بھی جائزہ لے گی، نجی کالجز کے تجارتی مفادات اور طلبہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ طبی تعلیم کے مجموعی معیار کے درمیان توازن کمیٹی کی سفارشات سامنے آنے کے بعد واضح ہو جائے گا۔ اعلیٰ صحت حکام کے مطابق وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ایسا حل تلاش کیا جائے جو میرٹ، شفافیت اور مناسب فیسوں کو یقینی بنائے اور نجی کالجز بھی بلا جواز پابندیوں کے بغیر اپنا کام جاری رکھ سکیں، یہ کوشش پائیدار حل فراہم کرتی ہے یا محض وقتی طور پر تناؤ کم کرتی ہے، اس کا تعین کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہوگا، تاہم اسٹیک ہولڈرز کو توقع ہے کہ اس رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ مہینوں میں طبی تعلیم کی پالیسی کا نیا رخ سامنے آئے گا۔

دیگر کیٹیگریز: پاکستان
ٹیگز: