اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کر رہا ہے،عاصم افتخار

Feb 20, 2026 | 22:31:PM
اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کر رہا ہے،عاصم افتخار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(انورعباس)اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کر رہا ہے،اس کے باعث گشت، نقل و حرکت اور فیلڈ میں موجودگی کم ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی سپیشل کمیٹی آن پیس کیپنگ آپریشنز کے افتتاحی اجلاس سے پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا، ترجمان پاکستانی مستقل مشن کے مطابق پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کر رہا ہے،اس کے باعث گشت، نقل و حرکت اور فیلڈ میں موجودگی کم ہو رہی ہے، اس کے نتیجے میں مینڈیٹ پر عملدرآمد، شہریوں کے تحفظ، تشدد کی روک تھام اور امن اہلکاروں کی سلامتی و تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمدکاکہناتھا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے ناگزیر ذریعہ ہیں،یہ مشنز اس وقت بڑھتے ہوئے سیاسی، عملیاتی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس حوالے سے اجتماعی غور و فکر اور مؤثر اقدام کی ضرورت ہے۔

 پاکستانی مستقل مندوب نے کہاکہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے قدیم ترین امن مشنز میں سے ایک، یونائیٹڈ نیشنز ملٹری آبزرور گروپ اِن انڈیا اینڈ پاکستان کی میزبانی کر رہا ہے، پاکستان گزشتہ 6 دہائیوں سے زائد عرصے سے امن مشنز کے لیے سب سے بڑے اور مسلسل دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے،اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکار چار براعظموں میں 48 مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں،مستقل مندوب نے اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے 182 پاکستانی امن اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

عاصم افتخار احمدنے کہاکہ حالیہ برسوں میں بعض مشنز کی منتقلی یا اختتام عمل میں آیا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی عالمی بے یقینی اور دوسری عالمی جنگ کے بعد بلند ترین سطح کے تنازعات کے باوجود ایک دہائی سے زائد عرصے سے کوئی نیا امن مشن قائم نہیں کیا گیا، غیر اقوامِ متحدہ اور عارضی نوعیت کے مشنز کا سہارا لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ امن مشنز کی ضرورت برقرار ہے، اصل مسئلہ مطابقت کا نہیں بلکہ عزم اور اجتماعی سیاسی ارادے کا ہے،اقوامِ متحدہ امن مشنز کی قانونی حیثیت عالمگیر شمولیت، باقاعدہ اور قابلِ پیشگوئی مالی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول، لاجسٹکس اور احتسابی نظام سے حاصل ہوتی ہے،قابلِ پیشگوئی مالی وسائل، جو کبھی سب سے بڑی طاقت تھے، اب سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں،ہنگامی اقدامات کے تحت مختلف مشنز میں فوجی اور سویلین عملے میں کمی کی جا رہی ہے۔

 پاکستانی مندوب نے امن مشنز کے مالیاتی ڈھانچے کا سنجیدہ اور منظم جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ فنڈنگ کو پائیدار، قابلِ پیشگوئی اور مینڈیٹس سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

ترجمان پاکستانی مستقل مشن نے کہاکہ اگر مالی وعدے کمزور پڑتے رہے اور واضح حکمتِ عملی کے بغیر مشنز محدود ہوتے رہے تو امن مشنز کے لیے دستے فراہم کرنے والے ممالک کی تیاری بھی متاثر ہو سکتی ہے، ان میں سٹینڈ بائی انتظامات، فوری تعیناتی کی صلاحیت اور خصوصی یونٹس شامل ہیں، پاکستانی مستقل مندوب نے اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا، امن مشنز کو زیادہ فعال، مرکوز اور بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر لیس ہونا چاہیے، اس میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور مضبوط شراکت داریاں شامل ہیں، شہریوں کا تحفظ، خلاف ورزیوں کی روک تھام، اور جنگ بندی کی نگرانی و تصدیق بنیادی ذمہ داریاں ہیں، اور سیاسی پیش رفت کی کمی کو مشنز کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ؛آسٹریلیا اور عمان کے درمیان آخری گروپ میچ کا فیصلہ ہو گیا

دیگر کیٹیگریز: دنیا
ٹیگز: