بلوچستان اسمبلی کا اجلاس، صوبائی، قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی قرارداد پیش

Feb 20, 2026 | 19:57:PM
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس، صوبائی، قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی قرارداد پیش
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)بلوچستان اسمبلی اجلاس کے دوران رکن اسمبلی اصغر علی ترین کی جانب سے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کے قرار داد پیش کر دی گئی۔

اجلاس کے دوران مولانا ہدایت الرحمن نے توجہ دلائو نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال کا بیشتر حصہ گزر چکا ہے مگر سرکاری ہسپتالوں میں ادویات فراہم نہیں کی جا سکی ہیں۔

مولانا ہدایت الرحمن نے موقف اپنایا کہ ادویات نہ ہونے کے سبب غریب مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، اب تک ادویات نہ پہنچنے کی کیا وجوہات ہیں، تفصیل فراہم کی جائے۔

اجلاس کے دوران حکومت کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے حوالے تفصیلات فراہم کرنے کے بعد ایوان نے توجہ دلاو نوٹس نمٹا دیا۔

رکن اسمبلی اصغر علی ترین کی جانب سے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھنے کے قرار داد پیش کی گئی جس میں موقف اپنایا گیا کہ بلوچستان پاکستان کا سب بڑا اور وسائل سے مالامال صوبہ ہے، کوئٹہ مسائل کی وجہ سے متاثرہ اورپسماندہ صوبہ ہے۔

قرارداد میں بتایا گیا کہ 44 فیصد کل رقبے کے مسائل کا حل جنگ نہیں ہے، صوبے کی اصل نمائندگی بڑھانے سے مسائل حل ہوں گے، وفاقی حکومت سے رجوع کیا جائے کہ کثیر آبادی اور وسیع رقبے کو مدنظر رکھ کر صوبائی اسبملی 85 اور قومی اسبملی میں بلوچستان کی نشستیں 28 کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

ظہور بلیدی نے کہا کہ صوبے کے حالات پر غور کرنا چاہئے، صوبے کے خراب حالات میں بیرونی طاقتیں ملوث ہیں، لوگوں کا سیاسی نظام پر اعتماد کم ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھانے سے صوبے کے بہت سے مسائل حل ہوں گے، نشستیں بڑھنے سے نمائندگی بڑھے گی، قومی اسمبلی میں بلوچستان کی 40 نشستیں ہونی چاہئیں، نشستیں بڑھنے سے لوگ قومی دھارے میں آئیں گے۔

اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے کہا کہ بلوچستان کو رقبے کے لحاظ سے نشتیں ملنی چاہیں، ہمارا حلقہ انتخاب بہت بڑا ہے، بلوچستان کی بنیادی مسائل پر فوکس ہوناچاہئے۔

صادق عمرانہ نے بتایا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان ایماندار شخصیت ہیں، بلوچستان قبائلی اور سیاسی شخصیات کا حلقہ ہے، بلوچستان کی نشستوں میں اضافے کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے۔

رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ نشستوں میں اضافے کی قرارداد 2017میں  سینیٹ میں گئی تھی، پارلیمانی نظام کو بہتر بنانے کے لئے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں بڑھانا ضروری ہے، پارلیمانی سیاست بلوچستان کے مسئلے کا واحد حل ہے، بیانات سے کچھ نہیں ہوگا،اقدامات کرنے ہو گے، بلوچستان کے لوگ کے حق رائے دہی کااحترام کیاجائے۔

زمرک اچکزئی نے اسمبلی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بڑھنی چاہئیں، بلوچستان کی پسماندگی اور حالات کو دیکھ کر نشستیں بڑھائی جائیں۔

انھوں نے کہا کہ سٹین بڑھانے سے صوبے کے مسائل حل ہوںگے، یہ قرارداد پہلے سے سینیٹ سے پاس ہوچکی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟