اے جذبۂ دل گر میں چاہوں:بلبلِ پاکستان نیرہ نورکو بچھڑے 3برس بیت گئے
یوں توبے شُمار غزلیں گائیں مگر بہزاد لکھنوی کی لکھی ہوئی غزل تو ان کی پہچان تھی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)بلبلِ پاکستان نیرہ نورکو بچھڑے 3سال بیت گئے۔
نیّرہ نور ملک کی معروف ترین گلوکاراؤں میں شُمار ہوتی تھیں،جب وہ کوئی گیت،غزل یاکوئی لَے گنگناتیں تو دلوں کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے کی بجائے سَنورنے لگتی تھیں،ان کی آواز کا لَوچ اورلہجے کی نرمی سے امن،سکون اورٹھہراؤ کی ایک ایسی کیفیّت جنم لیتی جس کو محسوس تو کیاجاسکتاتھا لیکن الفاظ میں اس کا اظہارمُمکن نہیں،وہ گیت گاتی نہیں بلکہ لوریاں سُناتی ہوئی آگے بڑھ جاتی تھیں اور سُننے والے اس کی مدھر اورشانتی بھری آواز کے تعاقت میں کہیں دور بلکہ بہت دور نکل جاتے تھے، وہ ”ہم کو تتلیوں کے جگنوؤں کے دیس جانا ہے“کی صدا بلندکرتی نظرآتی تھیں تو اس کی آواز بذات خود تتلی اورجگنو کا روپ دھار لیتی تھی اور یہی گلوکارہ جب ”اے جذبہ اے دل گر میں چاہوں سامنے منزل آجائے“گنگنانا شروع کرتیں توگلو یا جذبوں کوایک زبان مل جاتی اور الفاظ انہی جذبوں میں سرمست ہوکر ناچنا شروع کردیتے تھے۔

یہ1970ء کی دہائی کی بات ہے جب صرف ایک ریاستی چینل پی ٹی وی ہوتا تھا،اس وقت پی ٹی وی پر ایک معصوم شکل وصورت والی دھان پان سی لڑکی سکرین پر آتی ہے،اکڑ بکڑ،سچ گپ اور ٹال مٹول جیسے پروگراموں میں اپنی آواز کا جادو جگاکر سب کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے حالانکہ وہ فریدہ خانم اور ملکہ ترنّم نورجہاں کے عروج کا دور تھا جو خود نیرہ نور کی بھی پسندیدہ گلوکارائیں تھیں۔
اگرچہ نیرہ نور گانے کے دوران کوئی نخرہ نہیں دکھاتی تھیں بلکہ سکون اور سادگی سے گاتی تھیں لیکن ان کی آواز لوگوں کو ضرور اپنے سحر میں جکڑلیتی تھی،اس وقت تک انہیں ایک گلوکارہ کے طور پر وہ پہچان نہیں ملی تھی لیکن جب 1976ء میں فیض احمد فیض کے داماد شعیب ہاشمی نے ای ایم آئی پاکستان کے ساتھ اشتراک سے ایک البم”نیرہ سنگز فیض“ ریلیز کیا تواس سے نیرہ نور کو بطورگلوکارہ ایک شناخت مل گئی،یہ البم فیض احمد فیض کی سالگرہ کے موقع پرانہیں تحفہ کے طور پر پیش کیاگیاتھا، البم میں فیض احمد فیض کی ہندی نظم ”برکھا برسے چھت پر“ بھی شامل تھی جو نیرہ نور نے اپنے شوہر شہریار زیدی کے ساتھ مل کرگائی تھی۔

نیرہ نور1950ء کو گوہاٹی آسام میں پیدا ہوئیں،وہاں ان کا خاندان امرتسر سے ہجرت کر کے گیا تھا،ان کے والدین تجارت پیشہ لوگ تھے، 1957ء یا 1958ء میں، جس کے بارے میں خود نیرہ نور کو بھی شک تھا، نیرہ نور اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آ گئیں اور لاہور میں آکر قیام پذیر ہوئیں،اس وقت نیرہ نور کی عمر 7 سال کے قریب ہوگی، ان کے والد کو جائیداد کے مسائل کی وجہ سے1993ء تک وہاں ہی رُکنا پڑا تھا،وہ وہاں آسام میں موجود اپنی جائیداد فروخت کرکے پاکستان آئے اور باقی فیملی کا حصّہ بنے تھے، وہ پکّے مسلم لیگی تھے اور تقسیم ہند سے قبل آسام میں جب بھی قائداعظم کے جلسے ہوئے تو وہ ان کے میزبان رہے تھے۔
نیّرہ نور کو موسیقی کا شوق بلکہ جنون شروع سے تھا،موسیقی ان کے لئے تفریح کا سب سے بڑا بلکہ واحد ذریعہ تھا،کانن بالا اور بیگم اختر ان کی ہمیشہ سے پسندیدہ گلوکارائیں تھیں،لتا منگیشکر کو بھی وہ سُنا کرتی تھیں اور ان کی گائیکی سے بہت زیادہ متاثر بھی تھیں۔

نیّرہ نور جب نیشنل کالج آف آرٹس لاہور میں زیر تعلیم تھیں تو ان دنوں وہاں موسیقی کی تقریبات منعقد ہوتی رہتی تھیں،وہاں منعقد ہونے والی ایک میوزیکل ایوننگ میں نیّرہ نور نے لتا بھجن”جو تم تو ڈو پیا“ گایا تو وہاں اسلامیہ کالج کے پروفیسر اسرار بھی موجود تھے اور وہ ان کی آواز سے بہت زیادہ متاثر ہوئے، پروفیسر اسرار خود بھی گاتے اور گانے لکھتے تھے، نیرہ نور نے کیریئر کے اوائل میں پروفیسر اسرار کے لکھے ہوئے کئی گانے گائے تھے،موسیقی کا شوق ہی شہریار زیدی اور نیرہ نور کو ایک دوسرے کے قریب لایا اور دونوں نے شادی کر کے ہمیشہ کے لئے ایک ہونے کا فیصلہ کر لیا،نیرہ نور نیشنل کالج آف آرٹس لاہور اور شہریار زیدی ہیلے کالج آف کامرس لاہور کی نمائندگی کیا کرتے تھے،پہلی پوزیشن تو نیرہ نور کسی کو لینے دیتی نہیں تھیں اور شہریار زیدی کودوسری پوزیشن قبول کرنا پڑتی تھی، دونوں پہلی بار ایک گرامو فون ریکارڈ شاپ پر ملے تھے جہاں دونوں بیگم اختر کے گانوں کی ڈسک تلاش کر رہے تھے،اس کے بعد جو ہوا وہ خود ایک تاریخ ہے۔
نیّرہ نور ان گلوکاروں میں سے تھیں جنہیں اللہ نے بہت خوب صورت آواز سے نوازاتھا،وہ اگرچہ کلاسیکل موسیقی کا پسِ منظر نہیں رکھتی تھیںاس کے باوجود گاتے ہوئے کبھی بے سُری نہیں ہوئیں اورہرچیز کو بہت سر میں گایا۔
نیّرہ نور نے ٹی وی کے لئے ارشد محمود اور جاوید اللہ دتہ جیسے میوزک کمپوزرز کے ساتھ مل کر شاہکار نغمے تخلیق کئے،”چلو اس کوہ پر“ جیسا ٹائٹل سانگ ہویا ”اے جذبہ دل گرمیں چاہوں“ جیسی غزل یا پھر ”ساون رات کی پون چلی“ جیسے گیت ہوں، ان کا گایا ہوا ایک ایک گیت لازوال ہے، ان کے البم ”یادوں کے سائے“ کو بھی کون بھول سکتا ہے یہ البم 1930ء اور 1940ء کی دہائی میں بننے والی فلموں کے گیتوں پر مشتمل تھا،یہ اوریجنل گانے کانن بالا کی آواز میں ریکارڈ ہوئے تھے۔

نیرہ نور نے اگرچہ گائیکی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا تھالیکن بعد میں پاکستان ٹیلی ویژن پر زیادہ توجّہ مرکوز کئے رکھی،بطور پلے بیک سنگران کے فلمی گیت بھی کم اہمیت کے حامل نہیں،ماسٹر خورشید انور اس وقت اپنے کیریئر کے عروج پر تھے اور انہوں نے فلم ”شیریں فرہاد“کے لئے نیّرہ نور کی آواز میں گانا ریکارڈ کیا جس کے بعد”تان سین“کے لئے بھی آواز کا جادو جگایا،پھر خورشید انور چل بسے،کمپوزر خلیل احمد اور نثار بزمی نے بھی نیّرہ نور کے ٹیلنٹ کواحسن انداز سے استعمال کیا لیکن جس موسیقار نے نیرہ نور کی صلاحیتوں کو سب سے بہتراستعمال کیا وہ موسیقار روبن گھوش تھے,1984ء میں ان کی آخری فلم ”دوریاں“ تھی جس کے لئے انہوں نے آواز کا جادو جگایا تھا۔
روبن گھوش کا فلم”آئینہ“کے لئے کمپوز کردہ نیّرہ نور کی آواز میں گانا ”روٹھے ہو تم،تم کو کیسے مناؤں پیا“ آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گلوکارہ صنم ماروی اور احمد شاہ کا تنازع ختم، 5 کروڑ ہرجانے کا نوٹس واپس
نیّرہ نور کا کیریئر 1971ء سے 2012ء تک محیط تھا کیونکہ 2012ء میں انہوں نے میوزک سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی،یوں تو انہوں نے بے شُمار غزلیں گائی ہیں مگر بہزاد لکھنوی کی لکھی ہوئی غزل ”اے جذبہ دل گر میں چاہوں“تو ان کی پہچان تھی۔کئی اور غزلیں بھی ان کی شناخت رہیں جن میں ”رنگ برسات نے،پھر ساون رت کی پون چلی،اے عشق ہمیں برباد نہ کر،برکھا برسے چھت پر،میں تیرے سپنے دیکھوں،جلی کو جلاؤ گوری شامل ہیں۔اس پرچم کے سائے تلے اوروطن کی مٹّی گواہ رہنابھی نیرہ نور کا ایک اہم حوالہ تھا،ان کے گائے ہوئے فلمی گیتوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جن میں تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا پلکیں بچھالوں،آج غم لئے آئے گا جب تیرا غم خوشی میں بدل جائے گا،مجھے دل سے نہ بھلانا،توہی بتا پگلی پون،اتنا بھی نہ چاہو مجھے،ٹوٹ گیا سپنا، میرا پیار تمہی ہو، موسم تو دیوانہ ہے،تیرا پیار بن کے آئے،ذرا میری نبض دیکھ کراورپھول بن جاؤں گی نمایاں ہیں۔