ریکارڈ تیل اخراج کے بعد امریکی ذخائر دو سال کی کم ترین سطح پرپہنچ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالے جانے کے بعد مجموعی ذخائر دو سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارےکے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی ہنگامی تیل ذخائر سے تقریباً 9.9 ملین بیرل تیل نکالا گیا، جس کے بعد مجموعی ذخائر کم ہو کر تقریباً 374 ملین بیرل رہ گئے ہیں، جو جولائی 2024 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہنگامی ذخائر سے تیل جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 172 ملین بیرل تیل جاری کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔
توانائی حکام کے مطابق صرف اپریل میں ہی 92.5 ملین بیرل خام تیل کی پیشکش کی گئی تھی، جن میں سے 53.33 ملین بیرل کی فروخت کی منظوری دی گئی، جو رواں سال کی سب سے بڑی مقدار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اچھی خبر!پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں گر گئیں
ادھر توانائی کے عالمی ادارے (IEA) کے سربراہ فاتح بیرول کے مطابق عالمی سطح پر تیل کے تجارتی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور صورتحال اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ دنیا کے پاس صرف چند ہفتوں کی سپلائی باقی رہ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ترسیلی مسائل کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے اور اگر صورتحال برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔