’ایران اسرائیل کو جواب دے توہاتھ روک لیا جاتاہے، ایران کیساتھ کھڑے ہیں‘مولانا فضل الرحمان

Jun 19, 2025 | 19:31:PM
’ایران اسرائیل کو جواب دے توہاتھ روک لیا جاتاہے، ایران کیساتھ کھڑے ہیں‘مولانا فضل الرحمان
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(روزینہ علی)  سربراہ جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر ایران اسرائیل کو جواب دے تو ایران کا ہاتھ روک لیا جاتا ہے اگر پاکستان انڈیا کو جواب دے تو پاکستان کا ہاتھ روک لیا جاتا ہے،ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں ،ہمیں کھل کر اہل غزہ کے ساتھ کھڑے ہو جانا چاہئے۔ 

تفص یلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی اجلاس میں پہنچے جہاں انہوں نے اراکین  اسمبلی ملاقات کی۔

قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر شروع کرنے سے قبل سپیکر نے مولانا فضل الرحمان کو  اپوزیشن کرسی  کی تاریخ یاد دلادی،انہوں نے کہا کہ مولانا صاحب آپ 2002 میں اس اپوزیشن کی  کرسی پر ہوتے تھے ۔

مولانا فضل الرحماننے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اپوزیشن بنچز پر یہ ایک مائیک کیسے بچ گیا اگر ہماری تاریخ حکمران جماعت کو ناگوار گزرتی ہے تو بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے،اس پر میں احتجاج ریکارڈ کرواتا ہوں۔

مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بجٹ کے حوالے سے گفتگو کی،ان کا کہنا تھا کہ میں معیشت کا ماہر نہیں ہوں لیکن 1988 سے ایوان کے اندر بجٹ سن رہا ہوں،ہر حکومت کا دعویٰ ہوتا ہے کہ ہم معیشت میں ترقی کریں گے،ہر حکومت اپنے بجٹ کو عوام دوست قرار دیتی ہے،پندرہ بیس سال سے معیشت کا تجزیہ کریں۔ 

قاید جمعیت نے سوال اٹھایا کہ کیا مجموعی طور پر ہم نیچے آرہے ہیں یا اوپر جا رہے ہیں؟،بدقسمتی سے ہم اس ملک میں وہ بجٹ بھی دیکھے جب ہمارا جی ڈی پی گروتھ منفی پر گیا تھا،کسی بھی ملکی معیشت کے لیے ضروری ہے کہ پر امن ماحول ملے،حالات ایسے ہیں کہ کوئی باعزت انسان بھتہ دیئے بغیر اب زندہ نہیں رہ سکتا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے ہم پر حملہ کیا،ہندوستان ہر لحاظ سے ہم سے دس سے پندرہ گنا بڑا ہے،پاکستان نے جس جرات سے دفاع کیا ،ہر طرف سے داد تحسین ملی، پاکستان نے بھارت کے غرور کو زمین بوس کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر خزانہ یہاں ہوتے تو انہیں کہتا کہ یہ بجٹ آپ نے تیار نہیں کیا آئی ایم ایف نے تیار کیا،اگر ایران اسرائیل کو جواب دے تو ایران کا ہاتھ روک لیا جاتا ہے اگر پاکستان انڈیا کو جواب دے تو پاکستان کا ہاتھ روک لیا جاتا ہے،مودی کے ہاتھوں انڈیا میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔

 قائد جے یو آئی نے کہا کہ اس کو پاک انڈیا جنگ نہ کہا جائے،اس کو پاک مودی جنگ کہا جائے،وہ اکیلا ہندوتوا کارڈ کھیل رہا تھا،ہنود یہود اتحادی ہیں ،یہ ایک ہیں،یہ صرف مودی کی جنگ تھی جو اکیلے جنگ لڑے گا قوم ساتھ نہیں ہوگی تو یہ انجام ہوگا،ہمیں خطے میں ایران کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ 

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں ،ہمیں کھل کر اہل غزہ کے ساتھ کھڑے ہو جانا چاہئے ،ہم خطے کے ممالک کے ساتھ انگیج نہیں ہورہے،دوست ممالک ہم سے دور ہوتے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا بڑا ملک ہے،پاکستان اسلامی دنیا کی ایٹمی طاقت ہے،بین الاقوامی اداروں کی کوئی حیثیت نہیں رہی،او آئی اسی اب ایک دکھاوا ہے،25 کروڑ عوام کے ملک کو یہ چلائیں گے،اس ملک کو انقلاب چاہیے، روایتی سیاست کا دور ختم ہوا،سیاستدانوں کے ساتھ انتقامی رویہ نہ رکھیں،معیشت قوم کو انصاف فراہم کرنے سے ہوگی۔

سربراہ جے یو آئی نے اپنی تقریر میں کہا کہ کیا ہماری اسٹیبلشمنٹ اپنی ذمہ داریوں تک محدود ہے؟کیا ملکی سیاست کو وہ کنٹرول نہیں کررہے؟کیا پارلیمنٹ کو وہ کنٹرول نہیں کررہے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارے2 صوبوں میں حکومتی رٹ نہیں ہے اگر2صوبوں میں حکومتی رٹ ہی نہیں ہے تو ہم کس چیز کے شادیانے بجا رہے ہیں۔

اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری قانون سازیاں اپنے ڈرافٹ کے اندر خود چیخ چیخ کر بتا رہی ہوتی ہیں کہ کس کا پریشر ہے،ہم نے ایک آزاد ملک کی حیثیت سے 14 اگست کو یوم آزادی مناتے ہیں،جب آپ آئین کو پامال کرتے ہیں تو کبھی اس کو حقوق انسان تو  کبھی حقوق نسواں کا لقب دے دیتے ہیں۔

سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ آج ہم 18 سال کی عمر کو نکاح کے لئے پابند کر کے اس پر سزائیں دے رہے ہیں،مسئلے کی نزاکت کو دیکھیں،جائز نکاح کے لئے مشکلات اور زنا بالرضا کے لئے سہولیات پیدا کررہے ہیں،ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں وہ وہ کچھ ہو رہا ہے جو خود یورپ میں نہیں ہو رہا،ہماری قوم بہت قربانیاں دے چکی ہے،ہم بارود میزائل کا نشانہ ہیں ہم نے بہت خون قربانیاں دے چکے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں عید کے روز 2سالہ بچے اغوا کیے گیے،کہاں گئی انسانیت، انسانیت کی رہنمائی کے لیے کون سا نظام ہو گا،اگر حکمرانوں کو ایسی سوچ منظور ہے تو میں اس ایوان سے اعلان جنگ کرتا ہوں۔ 

مولانا فضل الرحمان   نے مزید کہا  کہ صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات کے بارے میں سوال کیا گیا،میں نے جواب میں کہا سیاسی کارکن کی حیثیت سے کہا کہ انڈیا پاکستان، ایران اسرائیل کی بات ہوئی ہو گی لیکن فلسطین پر بات نہیں ہوگی۔

  اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اسجد محمود کے اغواء کی مبینہ کوشش پرسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واقعے کی شدید مذمت کی، پارلیمنٹ کی جانب سے واقعے پر تشویش کا اظہارکیا گیا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نےمولانا کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ ایوان مولانا فضل الرحمان،ان کے خاندان اور کارکنان کے ساتھ ہے  جس پر مولانا فضل الرحمان نے ایاز صادق کا شکریہ ادا کیا۔ 

یہ بھی پڑھیں :  ایرانی حملوں کا خوف، پانچ ہزار اسرائیلی گھر چھوڑ گئے، حکومت کی تصدیق