’’بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی‘‘
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)بلغاریہ کی مشہور نابینا پیشگو بابا وانگا جنہیں اکثر ’’بلقان کی نوسٹرے ڈیمس‘‘ کہا جاتا ہے، دنیا کے بڑے واقعات کی پیشگوئیوں کے باعث عالمی شہرت رکھتی ہیں،ان کی مشہور پیشگوئیوں میں نائن الیون ، شہزادی ڈیانا کی المناک موت، اور کورونا وائرس کی عالمی وبا شامل ہیں۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جسے جدید یا ترقی یافتہ دور کہا جاتا ہے، جہاں ڈیجیٹل دنیا، ٹیکنالوجی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صبح اٹھنے سے لے کر رات سونے تک ہم ایسی دنیا میں محصور ہیں جہاں مشینیں، آلات اور ڈیجیٹل نظام ہمارے آس پاس موجود ہیں۔ اسمارٹ فونز، اسمارٹ ہومز، مصنوعی ذہانت، اوتارز، اور ورچوئل اسسٹنٹس ہماری زندگیوں میں روزانہ شامل ہو رہے ہیں۔ بعض اوقات تو ہم مشینوں کے ساتھ زیادہ بات چیت کرتے ہیں بجائے اس کے کہ حقیقی انسانوں سے رابطہ کریں۔اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال اسمارٹ فون ہے، جو حقیقی دنیا سے فاصلے کو بڑھا رہا ہے، اور زیادہ تر لوگ اس تبدیلی کو تسلیم تک نہیں کرتے۔ اسمارٹ فون جسے ذہنی بوجھ کم کرنے اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے بنایا گیا تھا، اب عادت بن چکا ہے اور دماغ پر قابض ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان میں بڑی تباہی: نئی بابا وانگا نے پیشگوئی کردی
مشہور بلغاریائی روحانی بابا وانگا نے کئی سال قبل ہی اس کا انتباہ جاری کیا تھا، انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ ایک چھوٹا مگر طاقتور آلہ جسے آج ہم اسمارٹ فون کے طور پر جانتے ہیں انسانی رویے اور ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالے گا، اس وقت یہ بات عجیب لگی تھی مگر آج یہ بالکل درست ثابت ہوئی ۔
موبائل فون کی اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی ہارمون میلاٹونن پر اثر انداز ہوتی ہے، جو نیند کے معمولات کو متاثر کرتی ہے اور نیند میں خلل ڈالتی ہے اگرچہ اسمارٹ فون کے استعمال کو عام طور پر ذہنی بیماری نہیں سمجھا جاتا، مگر اس کا تعلق ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی سطحوں میں اضافے سے ہے۔
اسمارٹ فون کا مسلسل استعمال دباؤ اور ڈپریشن کی بڑھتی ہوئی سطحوں سے جڑا ہوا ہے،مسلسل نوٹیفیکیشنز اور تیز رفتار ڈیجیٹل مواد کی بھرمار توجہ دھیان کو کم کرتا ہے،اگرچہ اسمارٹ فون نے دور دراز مقامات پر خاندان کے افراد کے رابطے کو برقرار رکھنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن اس نے اییک ہی جگہ پر رہنے والے خاندانوں میں فاصلہ اور جذباتی دوری بھی پیدا کردی ہے۔
بابا وانگا، جو 1996 میں وفات پا چکی تھیں کی پیشگوئیاں آنے والے صدیوں تک کے حالات پر محیط ہیں اور آج بھی لوگوں کے دلوں میں تجسس اور بحث کا باعث بنتی ہیں۔
بابا وانگا کی 2025 کے لیے پیشگوئیاں خوفناک وارننگز اور امید افزا ترقیات کا مجموعہ ہیں۔
1)تیسری عالمی جنگ کا خطرہ
بابا وانگا نے تیسری عالمی جنگ کی پیشگوئی کی ہے جس کا آغاز چین اور امریکہ جیسے بڑے ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے ہو سکتا ہے،ان کے مطابق یورپ بھی ایک بڑے تنازعے کا شکار ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان جنگوں کے سنگین نتائج عالمی آبادی میں نمایاں کمی کا سبب بن سکتے ہیں اور وہ "دنیا کے خاتمے" کی طرف بڑھنے والے واقعات کی شروعات ہو سکتی ہیں۔
2)کھیلوں کے ایونٹ کے دوران خلائی مخلوق سے ملاقات
2025 کے لیے ایک دلچسپ پیشگوئی یہ ہے کہ انسانیت کو پہلی بار خلائی مخلوق سے ملاقات کا موقع ملے گا، بابا وانگا نے کہا کہ یہ تاریخی واقعہ کسی بڑے کھیلوں کے ایونٹ کے دوران ہوگا جس سے شکوک پیدا ہوتے ہیں کہ یہ سپر باؤل یا ومبلڈن جیسے عالمی مقابلوں میں ہو سکتا ہے۔
3)طبی میدان میں انقلاب
بابا وانگا نے صحت کے شعبے میں نمایاں ترقی کی پیشگوئی کی ہے،ان کا کہنا تھا کہ سائنسدان لیبارٹری میں تیار کردہ انسانی اعضا تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو ٹرانسپلانٹس میں انقلاب برپا کر دیں گے،مزید یہ کہ انہوں نے کینسر کے علاج میں بڑی پیشرفت کی نشاندہی کی، کچھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کینسر کے علاج کا اشارہ دیا ہو سکتا ہے۔