ایران میں پاسداران کے میزائل ذخائر، لانچر، ڈرون محفوظ، نئی ویڈیو کلپ میں دشمن کے جنگ ہارنے کا دعویٰ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے میزائل اور ڈرون لانچروں کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ رفتار سے بھر رہا ہے۔
دو منٹ دورانیہ کی ایک ویڈیو کلپ سامنے آئی ہے جس میں ایرانی پاسداران کے میزائلوں کے زیر زمین اڈوں کے اندر موجود ذخائر کی جھلک دکھائی گئی ہے اور اس کے ساتھ میزائلوں کی ٹرانسپورٹیشن، لانچنگ کا نظام صحیح سلامت ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ نئے سرے سے جنگ لڑنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے اور اپنے ناقابل شکست ہونے کے یقین کا اظہار کیا گیا ہے۔

ایران کی سرکاری نور نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر، ماجد موسوی نے اتوار کو کہا، "وہ جنگ کا یہ مرحلہ ہار چکے ہیں! انہوں (امریکہ) نے آبنائے، لبنان اور خطہ کو کھو دیا ہے۔" ماجد موسوی کا بیان ایک ایڈِٹ کی گئی ویڈیو کے ساتھ شیئر کیا گیا جس میں ان کو ایک غیر متعینہ زیر زمین میزائل تنصیب کا معائنہ کرتے دکھایا گیا تھا۔ اس ویڈیو میں زیر زمین تنصیبات کے اندر ڈرونز، میزائلوں اور لانچروں کے ساتھ ساتھ زمینی میزائل لانچوں کی فوٹیج بھی شامل تھی۔
ماجد موسوی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ "ایران کے برعکس، دشمن جنگ بندی کے دوران اپنا گولہ بارود بھرنے میں ناکام رہا ہے۔"

اگرچہ نہ تو امریکہ اور نہ ہی اسرائیل نے موسوی کے ان دعوؤں پر باضابطہ طور پر کوئی ردعمل ظاہر کیا ہے، البتہ ہفتے کے روز اسرائیل کے نیوز چینل N12 نیوز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے اسرائیل کو نشانہ بنانے والے میزائل لانچرز کو تلاش کیا تھا، جو اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں حملہ کرنے کے لیے تیار تھے۔
N12 کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی طرف سے دھمکی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل پر لبنان کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا محرک تھی، اور ان کا جمعہ کا اعلان کہ اسرائیل کو "لبنان پر مزید بمباری کرنے" سے منع کیا گیا ہے، ممکنہ طور پر اسی دھمکی کے زیر اثر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ایڈوانس سیکیورٹی ٹیم کے 6 خصوصی طیارے پاکستان پہنچ گئے
ایک ذریعے نے اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ چینل 12 کو بتایا کہ اسرائیل اور امریکہ اس امکان کے لیے بھی تیاری کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی، کیونکہ آبنائے ہرمز پر کشیدگی سے امن مذاکرات کو خطرہ ہے۔ آئی ڈی ایف نے مبینہ طور پر (ایران کے اندر) قومی انفراسٹرکچر اور توانائی کی تنصیبات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے حملے کے اہداف کی ایک فہرست کی منظوری دی ہے۔اسرائیلی فوج ایسی کارروائیوں کی بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے جن پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں لڑائی کے پچھلے دور کے اہداف کی طرف بڑھنا جاری رہے گا۔




ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی کوششوں سے 2 ہفتے کے لئے جنگ بندی ہوئی تھی جو آنے والے منگل تک ہے۔ اس دوران پاکستان کی سرتوڑ کوششوں سے ایران اور امریکہ کے نمائندے اسلام آباد آ کر تقریباً 23 گھنتے مسلسل مذاکرات کر چکے ہیں۔ ان مذاکرات کے بعد دونوں متحارب قوتوں کے نمائندے اسلام آباد سے تو واپس چلے گئے البتہ پاکستان کے ذریعہ مزید مذاکرات کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس دوران ایران نے جنگ بندی کی شرط " آبنائے ہرمز کو جہازرانی کیلئے کھولنا" پر جزوی عمل درآمد شروع کیا، پھر اس سمندری راستے کو دوبارہ بند کر دیا۔ امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی جنگ بندی کے دوران ہی شروع کی جو اب تک جاری ہے۔

انتہائی کشیدگی کے دوران ٹرمپ مسلسل یہ بتا رہے ہیں کہ وہ جنگ بندی مستقل ہونے اور معاہدہ ہو جانے کے لئے پر امید ہیں۔ اس ہی دوران پاسداران کے سینئیر کمانڈر کی یہ ویڈیو سامنے آئی ہے جو صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو بری طرح جھٹلا رہی ہے کہ ایران کی میزائلوں سے حملے کرنے کی طاقت مفلوج کی جا چکی ہے۔
