ہر چار میں سے ایک شخص ہڈیوں کی بیماریوں کا شکارہے: آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبدالباسط

Nov 18, 2025 | 15:00:PM
 ہر چار میں سے ایک شخص ہڈیوں کی بیماریوں کا شکارہے: آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبدالباسط
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ماہرین صحت کے مطابق 30 برس کی عمر کے بعد انسانی ہڈیوں کی از خود جڑنے کی صلاحیت کم ہونے لگتی ہے، جس کے باعث ہڈیوں کی کمزوری (آسٹیوپروسس) کا آغاز ہوتا ہے۔

مارننگ ود فضا میں گفتگو کرتے ہوئے معروف آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبدالباسط نے بتایا کہ ہر چار میں سے ایک شخص ہڈیوں کی بیماریوں، خصوصاً آسٹیوپروسس کا شکار ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین میں یہ شرح کہیں زیادہ ہے، جبکہ 50 فیصد خواتین کی ہڈیاں عمر کے ساتھ کمزور ہو جاتی ہیں۔

آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبدالباسط نے بتایا کہ 50 برس کے بعد خواتین میں ایسٹروجن کی مقدار کم ہونے سے بون ڈینسٹی میں نمایاں کمی آتی ہے، جبکہ خواتین میں موٹاپا، کم قد اور ہڈیوں کا پتلا ڈھانچہ بھی آسٹیوپروسس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالباسط کے مطابق اگر جسم میں بغیر کسی واضح وجہ کے درد محسوس ہو، جیسے کہ لوئر بیک پین، یا بزرگوں میں مہروں کا دب جانا یا معمولی چوٹ سے ہڈی ٹوٹ جانا، تو یہ آسٹیوپروسس کی علامات میں شامل ہو سکتا ہے۔ بزرگوں میں کولہے کی ہڈی کا ٹوٹنا بھی خاصا عام ہے۔

ڈاکٹر عبدالباسط نے مزید بتایا کہ فیملی ہسٹری بھی ہڈیوں کی کمزوری پر اثر انداز ہوتی ہے، اس لیے 50 برس کے بعد بون ڈینسٹی ٹیسٹ لازمی کرانا چاہئے۔

ان کے مطابق 80 فیصد ہڈیوں کے مسائل ہمارے غیر صحت مند طرزِ زندگی کا نتیجہ ہیں، جو بڑھاپا پہلے 60 برس کی عمر میں آتا تھا، اب 35 سے 40 برس کی عمر میں ظاہر ہونے لگا ہے کیونکہ نہ مناسب غذا لی جاتی ہے، نہ جسمانی سرگرمی برقرار رکھی جاتی ہے اور نہ ہی نیند پوری کی جاتی ہے، موبائل فون کا رات گئے تک استعمال گروتھ ہارمونز کے اخراج پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ معدے کی جلن کی ادویات کیلشیم کے جذب کو کم کر دیتی ہیں، جس سے ہڈیوں کی کمزوری بڑھتی ہے، جبکہ سموکنگ، ملاوٹ شدہ دودھ، دھوپ نہ لینا اور سافٹ ڈرنکس کا استعمال بھی ہڈیوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

ڈاکٹر عبدالباسط نے مشورہ دیا کہ وٹامن ڈی ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کرنا چاہیے اور اس کا ٹیسٹ بھی کروانا ضروری ہے، کیونکہ وٹامن ڈی کی زیادتی بھی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بچوں میں ہڈیوں کا درد بڑھ رہا ہے، خصوصاً پنڈلیوں میں درد کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی کی علامت ہو سکتا ہے، بچوں کو معمولی تھکاوٹ سے درد نہیں ہونا چاہیے، ان کی غذا میں دودھ، انڈے اور پھل شامل کیے جائیں،بعض بچوں میں ماتھے یا سینے کی ہڈی کا بڑھ جانا بھی ہڈیوں کی بڑھوتری اور غذائی کمی کی علامت ہو سکتا ہے۔