روس نے 33 روسی فوجیوں کی لاشوں کے بدلے 522 یوکرین فوجیوں اور شہریوں کی لاشیں واپس کر دیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) روس نے یوکرین کے فوجیوں اور شہریوں کی سینکڑوں لاشیں آج واپس کر دیں۔ یوکرین نےبھی روسی فوجیوں کی لاشیں واپس دی ہیں۔ سوا چار سال سے جنگ میں الجھے ہمسایوں کے درمیان لاشوں کا تبادلہ آج ہوا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان فوجیوں کی لاشوں کا تبادلہ ہوا تو روس سے 522 لاشیں یوکرین کے حکام کے حوالے کی گئیں۔ یوکرین کی طرف سے روس کے 33 فوجیوں کی لاشیں دی گئیں۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کا یہ تبادلہ طویل التوا کے بعد عمل میں آیا ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق روس کے فوجی ھکام نے یوکرین کے 522 فوجیوں اور شہریوں کی لاشیں یوکرین کے فوجی حکام کے حوالے کیں، جبکہ روس کو اپنے 33 فوجیوں کی لاشیں واپس موصول ہوئیں۔
روس کے سرکاری نشریاتی ادارے کے جنگی نامہ نگار یوگینی پودوبنی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر بتایا کہ حالیہ تبادلے کے دوران مجموعی طور پر 522 لاشیں یوکرینی حکام کے حوالے کی گئیں، جبکہ روس نے اپنے 33 فوجیوں کی لاشیں وصول کیں تاکہ ان کی مقامی رسوم کے ساتھ تدفین کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کروڈ آئل کی قیمت مزید گر گئی، پاکستان میں پٹرول، ڈیزل 28 فروری سے پہلے والی سطح پر جائیں گے؟
یوکرین کے فوجیوں کی لاشوں کی غیر معمولی گنتی کے متعلق اب تک صرف روسی حکام کا مؤقف سامنے آیا ہے، یوکرین کی حکومت نے اس لاشوں کے تبادلہ کے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی۔
دونوں ممالک ماضی میں بھی متعدد بار ہلاک فوجیوں کی لاشوں اور جنگی قیدیوں کا تبادلہ کر چکے ہیں۔
جاری جنگ کے تناظر میں لاشوں کے تبادلے کو انسانی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیا جاتا ہے، جس کے ذریعے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہلِ خانہ کو اپنے پیاروں کی تدفین کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بچے ‘ جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ’ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟ شرائط سامنے آگئیں