سعادت حسن مرگیا ’منٹو‘ زندہ ہے

شمروز خان

Jan 18, 2023 | 17:01:PM
سعادت حسن مرگیا ’منٹو‘ زندہ ہے
کیپشن: یہ عظیم لکھاری تمام عمر اپنے خلاف عدالتی اور غیرعدالتی مقدمات میں اپنی صفائی پیش کرتا رہا
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سعادت حسن منٹو اردو ادب کا ایک متنازعہ نام، کم از کم جب تک ایک جسم سے چسپا ں رہا۔ جسم ساتھ چھوڑ گیا تو نام امر ہوگیا، عظیم تر کہلایا۔

انسان ہمیشہ اُس فرد، واقعے یا حالات کے خلاف ردِعمل ظاہر کرتا ہے جس سے کسی بھی طور متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔ سعادت حسن کو اُس کے عہد نے کسی حد تک قبول کیا لیکن منٹو کے پیچھے ایک زمانہ لٹھ لے کر پڑگیا۔

’منٹو فحش نگار ہے، منٹو اخلاق بگاڑ رہا ہے، منٹو کی تحریروں پر پابندی لگائی جائے‘

منٹو ان تما م آوازوں کے درمیان اپنی آواز کو کبھی افسانوں، کبھی ڈراموں اور کبھی فلموں کی صورت لیے پھرتا رہا۔ اُس نے مقدمے جھیلے، غربت سہی، بدنامی اور ذلت کا بار اُٹھایا لیکن اُس کے قلم نے وہی لکھا جو اُس نے دیکھا اور محسوس کیا اور بہت لکھا۔ منٹو کے جو افسانے جیتے جی ذلت کا باعث بنے وہی بعد میں اُردو ادب کے ماتھے کا جھومر کہلائے۔

قیام پاکستان سے قبل منٹو کے تین افسانوں ’کالی شلوار‘، ’دھواں‘ اور ’بُو‘ پر فحاشی کے الزام میں مقدمات چلے۔ ان مقدمات میں سزائیں بھی ہوئیں لیکن ہر مرتبہ اپیل کرنے پر عدالت میں منٹو اور ان کے افسانوں کو فحاشی کے الزام سے بری کر دیا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد سعادت حسن منٹو نے جو پہلا افسانہ تحریر کیا اس کا نام ’ٹھنڈا گوشت‘ تھا۔ یہ ناصرف قیام پاکستان کے بعد منٹو کی پہلی تخلیق تھا بلکہ اپنی مخصوص نوعیت کے اعتبار سے بھی اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔

منٹو کا یہ شہرہ آفاق افسانہ لاہور کے ادبی ماہنامہ ’جاوید‘ کی مارچ 1949 کی اشاعت میں شائع ہوا تھا۔ روزنامہ ’انقلاب‘ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق 30 مارچ کو رسالے کے دفتر پر چھاپہ پڑا اور رسالے کی تمام کاپیاں ضبط کر لی گئیں۔

فوٹو بشکریہ روزنامہ انقلاب

خبر میں بتایا گیا کہ چھاپے کا سبب ’ٹھنڈا گوشت‘ کی اشاعت تھی۔ اس خبر میں اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا گیا تھا کہ یہ رسالہ ایک دن پہلے ہی مارکیٹ میں آیا تھا۔

کیا عجب دستور ہے انسانی بستیوں کا، زندگی میں ہم سچ بولنے والوں کو سولی پر چڑھاتے ہیں بعد میں سرکاری و غیرسرکاری تقریبات مناتے ہیں۔ شاید اپنی تشہیر و پوجا کیلئے۔ ’آؤ دیکھو سنو! ہم کتنے عظیم ہیں ہمارا احسان ہے کہ ہم بعد ازمرگ عزت بخشتے ہیں۔‘

یہی سب معاشرے نے منٹو کے ساتھ کیا۔ عدالتوں میں مقدمے لڑنے اور فیصلے صادر کرنے والے وکلاء اور ججوں کو کشمیری مسلم گھرانے کا یہ عظیم لکھاری تمام عمر اپنے خلاف عدالتی اور غیرعدالتی مقدمات میں اپنی صفائی پیش کرتا رہا۔ ساتھ ساتھ اُس کا قلم بھی چلتا رہا۔ لدھیانہ ڈسٹرکٹ والوں نے بھلا کب سوچا ہوگا کہ 1912ء میں پیدا ہونے والا ایک بچہ، سمرالہ کو آفاقی شہرت عطا کر جائے گا۔ ڈراموں کے 7، کہانیوں اور افسانوں کے 22، مضامین کے 3 مجموعے، 1 عدد ناول اور بمبئی میں بننے والی کچھ یاد گار فلمیں سمرالہ والوں کا قابلِ فخر اثاثے بن جائیںگے۔ وہی بچہ بڑا ہو کر ہندوستان اور پاکستان میں تین تین مقدمات فحش نگاری کے الزام میں بھگتے گا۔

عظیم لوگ،عظیم فنکار،عجیب و غریب حالات سے نہ گزریں تو شاید خام رہ جاتے ہیں۔ یہی قانونِ فطرت ہے۔ ریس کا گھوڑا کسی رقم کے لالچ میں نہیں بھاگتا، اُس کی تیز رفتاری اُس درد کی شدت کا نتیجہ ہوتی ہے جو وہ اپنے سوار کے ہاتھوں سہتا ہے۔ یہ درد اُسے تیز بھاگنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہی درد اُس کی جیت بن جاتا ہے۔ عظیم فنکار اور لکھاری بھی اپنے جذبات کی شدت اور سچائی کی حدت سے خود تو فنا ہوجاتا ہے مگر نہ فنا ہونے والا ورثہ پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔

منٹو بھی زندگی کے ہاتھوں درد سہتے سہتے بہت تیز بھاگا، بے تحاشہ بھاگا، 42 چکر زندگی کے ریس گراؤنڈ میں لگائے اور اپنی جیت کو، اپنے نام کو امر کرگیا۔

مظلوم اور ظالم دونوں ہی اُس کے نزدیک ایک بہت بڑی شطرنج کی بساط کے مہرے تھے۔ سو وہ انسانی سطح پر ان سب کی پیروی کرتا رہا، انسانیت کا کفارہ ادا کرتا رہا۔ اُس نے صرف کردار تخلیق کیے، فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا۔ منٹو چونکہ کرداروں اور واقعات کو نفسیاتی سطح پر برتتا تھا، اسلیے اُس دور کے حوالے سے تھوڑا شدت کی جانب مائل ہوگیا۔

وہ دور حقیقت پسندی کا دور تھا۔ اردو افسانے کا کینوس بھی فرد سے سماج تک پھیل چکا تھا۔ منٹواپنے خاکے میں لکھتے ہیں، ’ہم اکٹھے پیدا ہوئے تھے اور شاید مریں بھی اکٹھے۔ لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سعادت حسن مر جائے اور منٹو نہ مرے۔ یہ خیال مجھے پریشان کرتا ہے کیونکہ میں نے خلوص دل سے کوشش کی ہے کہ ہماری دوستی قائم رہے۔‘

لیکن یہاں منٹو فیل ہوگیا۔ اپنے میٹرک کے امتحان کی طرح، وہ دور بہت دور اندر تک دو حصوں میں بٹ گیا اور آخر ٹوٹ گیا۔ جانے سے کچھ عرصہ پہلے صفیہ کی گود میں سر رکھے اُنہوں نے بے حد کرب کے ساتھ کہا تھا، ’صفیہ اب یہ ذلت ختم ہوجانی چاہیئے۔‘ اُس دور اندیش باریک بین کو شاید اندازہ نہ ہوسکا کہ مستقبل نے اُس کیلئے عزت کا کتنا بلند مینار تعمیر کر رکھا ہے۔

اُردو کے اس عظیم افسانہ نگار کا انتقال 42 برس کی عمر میں 18 جنوری 1955ء کو ہوا مگر وہ اپنی تحریروں کے حوالے سے دنیائے ادب میں سدا زندہ رہیں گے۔