امریکی سینیٹ نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا 901 ارب ڈالر کا دفاعی بل منظور کرلیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)امریکی سینیٹ کی جانب سے 901 ارب ڈالرز کے ریکارڈ دفاعی بجٹ بل کی منظوری دے دی گئی ہے، بل کے حق میں 77 جبکہ مخالفت میں 20 ووٹ آئے،منظوری کے بعد دفاعی بل دستخط کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ارسال کر دیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق منظور شدہ دفاعی بجٹ میں امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ اور رہائشی سہولیات میں بہتری کے منصوبے شامل ہیں۔
بل میں یوکرین کے لیے آئندہ دو سال کے دوران 800 ملین ڈالرز کی فوجی امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔
دفاعی بجٹ میں اسرائیل کے دفاعی پروگرامز کے لیے فنڈز مختص کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے جن میں آئرن ڈوم سسٹم سمیت مشترکہ میزائل دفاعی منصوبوں کے لیے فنڈز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ بل میں شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے دور میں عائد کی گئی سیزر پابندیوں کے خاتمے کی شق بھی شامل ہے۔
دفاعی بجٹ بل میں چین سے درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے اور انڈو پیسیفک خطے میں امریکی مشنز کی کامیابی کو یقینی بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے، اس کے علاوہ تائیوان سکیورٹی کوآپریشن انیشی ایٹو کے لیے ایک ارب ڈالر کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین کا اعلان،امریکہ میں بے چینی
یہ قانون امریکی محکمہ دفاع کو اس بات کی اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ مشرقی یورپ میں امریکی فوجی تعیناتی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے نیٹو اتحادیوں سے فنڈز وصول کر سکے۔
بل کے تحت امریکی یورپی کمانڈ (یوروکام) کے کمانڈر کو ہر سال اس بات کا جائزہ لینے کا پابند کیا گیا ہے کہ امریکہ اور نیٹو روس کے خلاف اپنی تقابلی فوجی برتری کس حد تک برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
مزید برآں، بل میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعداد 76 ہزار سے کم کرنے سے قبل پینٹاگون کو امریکی سلامتی پر اس کے ممکنہ اثرات کا باقاعدہ جائزہ لینا ہوگا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ بجٹ ملکی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے اور اتحادی ممالک کی مدد کے لیے اہم قدم ہے۔