’’مارننگ ودفضا‘‘میں تیز دھار آلے سے لگنے والے زخم اور ابتدائی طبی امداد پر گفتگو 

  تیز دھار آلہ جسم میں پیوست ہو جائے توکھینچ کر نکالنے کی کوشش ہر گز نہ کریں،تھوریسک سرجن ڈاکٹر احمد علی 

Sep 17, 2025 | 16:10:PM
’’مارننگ ودفضا‘‘میں تیز دھار آلے سے لگنے والے زخم اور ابتدائی طبی امداد پر گفتگو 
کیپشن: تھوریسک سرجن ڈاکٹر احمد علی مارننگ ودفضامیں گفتگوکرتے ہوئے
سورس: 24 News
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24نیوز)تھوریسک سرجن ڈاکٹر احمد علی نے کہاہے کہ  کسی تیز دھار آلے کے جسم میں پیوست ہو جانے کے بعد اسے کھینچ کر باہر نکالنے کی کوشش ہر گز نہ کریں بلکہ وہیں پٹی یا کپڑے سے اچھی طرح باندھ کر زخمی کو ہسپتال ایمرجنسی پہنچائیں ۔
24نیوزکے پروگرام’’مارننگ ودفضا‘‘میں میزبان فضاعلی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئےمعروف تھوریسک سرجن ڈاکٹر احمد علی نےتیز دھار آلے سے لگنے والے زخم اور ان کی ابتدائی طبی امداد پر گفتگو کی  اور کہا کہ چاقو یا تیز دھار آلہ جسم میں پہلے ہی نقصان کر چکا ہوتا ہے، جسم سے باہر نکالنے کی کوشش میں تیز دھار آلہ زیادہ گہرے زخم کرکے نکلے گا اور خون جو پہلے اس کے پریشر کی وجہ سے رُکا ہوتا ہے تیزی سے باہر نکلتا ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔


 ڈاکٹر احمد علی نے کہا کہ اگر کسی کو سینے یا پیٹ میں گولی لگ جائے تو سامنےایک چھوٹا سوراخ ہی نظر آئے گا مگر جسم کے اندر بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہو گا ، جو سائیڈ زخمی ہوئی ہے اسے ریکوری پوزیشن میں کریں ، مریض کو کروٹ دیں تاکہ اگر اس کو الٹی آتی ہے تو وہ اس کو باہر نکال سکے ۔
 ڈاکٹر احمد علی نے کہا کہ کسی کو چاقو لگ جائے یا کوئی لڑائی ہو رہی ہو تو اس میں کودنا نہیں بلکہ سین سیفٹی کا خیال رکھنا ضروری ہے کیونکہ جو لڑائی جھگڑے میں کودتا ہے اکثر اسکا ہی نقصان ہو جاتا ہے ، اگر گھر میں کچن میں کام کے دوران کوئی چھری چاقو انگلی یا ہاتھ پر لگ جائے تو اسکا خون روکنے کیلئے اسے کسی کپڑے سے دبا کر رکھیں اور کسی کو مدد کیلئے بلائیں۔

یہ بھی پڑھیں:موسم بدلارُت گدرائی: اُستاد امانت علی خاں کوبچھڑے51برس بیت گئے
 ڈاکٹر احمدعلی نے کہا کہ گاڑی یا موٹر سائیکل کے ایکسیڈنٹ کے بعد زخمی کو خود نکالنے کی کوشش مت کریں بلکہ فوری طور پر ریسکیو کو کال کریں کیونکہ اس سے اسکو زیادہ نقصان ہو سکتا ہے بائیک پر جو لوگ زخمی ہوتے ہیں یا ہڈی وغیرہ ٹوٹ جاتی ہے تو اسے اُٹھا کر گاڑی میں مت ڈالیں ، ہیلمٹ پہننے سے ہنڈ انجری کم ہو جاتی ہے ،ایسے زخمی مریض کو پانی پلانے کی بھی ممانعت کی کیونکہ پانی پلانے سے اسکے پھیپھڑوں میں چلا جاتا ہے ، نادانی اور ناسمجھی میں پانی پلانا اس کا سانس روک سکتا ہے جس کی وجہ سے اسکی موت واقع بھی ہو سکتی ہے ۔
ڈاکٹر احمدعلی نے کہا کہبے ہوش شخص کو سینے پر ہلکا تھپتھپانا تو ٹھیک ہے ، مگر تھپڑ نہیں مارنا چاہیے، بے ہوش اگر بات کا جواب نہیں دیتا تو اس کا سانس چیک کریں ، نبض چیک کریں ، اسکا سانس چل رہا ہے تو اسے سی پی آر دیں تا کہ اسکی جان طبی مددپہنچنے تک بچ جائے۔