موسم بدلارُت گدرائی: اُستاد امانت علی خاں کوبچھڑے51برس بیت گئے

 کم عمری میں ہی دادرا،ٹھمری،کافی اور غزل گائیکی میں مہارت حاصل کرلی تھی

Sep 17, 2025 | 08:27:AM
موسم بدلارُت گدرائی: اُستاد امانت علی خاں کوبچھڑے51برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)سُروں کے بے تاج بادشاہ اورپٹیالہ گھرانے کے نامورگائیک اُستاد امانت علی خاں کو مداحوں سے بچھڑے 51 برس بیت گئے مگر ان کی گائی ہوئی غزلیں اورگیت آج بھی مداحوں کے کانوں میں رس گھولتے ہیں اور دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔

1922ء کو متحدہ ہندوستان کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہونے والے اُستاد امانت علی خاں نے موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد اخترحسین خاں سے حاصل کی،پٹیالہ گھرانے کے اہم ترین فنکاروں میں ان کے علاوہ اُستاد فتح علی خاں، اُستادحامدعلی خاں،اسد امانت علی خاں اور شفقت امانت علی خاں شامل ہیں،وہ علی بخش جرنیل کے پوتے تھے جو پٹیالہ گھرانے کے بانی ہیں۔
 موسیقی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کے بعدامانت علی خاں اپنے بھائی اُستاد فتح علی خاں کے ساتھ مل کرگایا کرتے تھے اورجلد ہی یہ جوڑی مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گئی ،بعدازاں ریڈیو پاکستان میں قبولیت کی سند پائی۔


اُستاد امانت علی خاں نے کم عمری میں ہی دادرا،ٹھمری،کافی اور غزل گائیکی میں مہارت حاصل کرلی تھی،غزل گائیکی میں اپنے منفرد اندازکے باعث انہوں نے ہم عصرگلوکاروں اُستاد مہدی حسن خاں،اُستاد غلام علی اوراعجاز حضروی میں اپنا ایک الگ مقام اورشناخت بنائی۔
امانت علی خاں نے چھوٹی عمر سے ہی محفلوں میں گانا شروع کردیاتھا اورریاست پٹیالہ کے راجہ کے دربار سے وابستہ ہوگئے تھے،کہا جاتا ہے کہ وہ لتا منگیشکر کے پہلے اُستاد تھے جب وہ 1945ء میں ممبئی آئیں اورہندوستانی کلاسیکی موسیقی سیکھنا شروع کی،قیام پاکستان کے بعد اُستاد امانت علی خاں اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ مستقل طور پر لاہور شفٹ ہو گئے اور منٹو پارک کے قریبی علاقے کریم پارک میں رہائش پذیر ہوئے۔
ان کے گائے ہوئے مشہور گیتوں میں ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے،چاند میری زمیں پھول میرا وطن،موسم بدلا رُت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے اور یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے بھی شامل ہیں،ان  کے گائے ہوئے سینکڑوں کی تعداد میں کلاسیکی اور نیم کلاسیکی گیت آج بھی بڑے ذوق وشوق سے سنے جاتے ہیں۔


پاکستان آنے کے بعد اُستاد امانت علی خان نے ریڈیو پر گانا شروع کیا پھرپٹیالہ گھرانے کے نمائندے کی حیثیت سے جنوبی ایشیا کا دورہ کیا،انہیں راگ،ٹھمری اور غزل گانے میں مہارت حاصل تھی۔جب امانت علی خاں اور ان کے بھائی فتح علی خاں نے اپنا کیریئر شروع کیا تواس وقت کلاسیکی موسیقی عروج پر تھی،امانت علی خاں کی غیرمعمولی گائیکی کی وجہ سے فوری طور پر ان کا نوٹس لیا گیااوران کے گانے کے انداز کو اہل موسیقی نے بہت پسند کیا۔50ء  اور 60ء کی دہائی میں انہوں نے بہت شُہرت حاصل کی۔
حیدر علی آتش کی غزل ”یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے“ گا کر انہوں نے غزل گائیکی کو ایک نیا اسلوب دیا،ابنِ انشا کی غزل’’انشاجی اٹھواب کوچ کرو‘‘ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے اورشاید ابنِ انشا نے بھی سوچا نہ ہو گا کہ امانت علی خاں جب ان کی یہ غزل گائیں گے تو امانت علی خاں کے ساتھ وہ خود بھی امر ہو جائیں گے بالکل اسی طرح ظہیر کاشمیری کی غزل ”موسم بدلا رُت گدرائی اہل جنوں بے باک ہوئے“جس مہارت اور جذبے سے امانت علی خاں نے گائی وہ انہی کا خاصہ ہے ۔ادا جعفری کی غزل”ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے“ کو بھی انہوں نے گاکرامرکردیا۔
اُستاد امانت علی خاں نے ملی نغمات گا کر بھی شُہرت حاصل کی ان نغمات میں ”چاند میری زمیں پھول میرا وطن“ اور ”اے وطن پیارے وطن“ شامل ہیں،یہ نامور گلوکار 17ستمبر 1974ء کو لاہور میں صرف 52سال کی عمرمیں راہی ملک عدم ہوگئے تھے لیکن ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا،ان کی طویل فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازاگیاتھا۔