کیوبا میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا

May 17, 2026 | 09:17:AM
کیوبا میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )کیوبا میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے جہاں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً دوگنا اضافہ کر دیا ہے، تاہم حیران کن طور پر دارالحکومت ہوانا سمیت کئی علاقوں میں پٹرول پمپس اب بھی بند ہیں اور عوام کو ایندھن دستیاب نہیں۔

کیوبا کی وزارت خزانہ اور قیمتیں کے مطابق نئی قیمتوں کا مقصد ایندھن کی درآمدی لاگت کو حقیقت کے مطابق لانا ہے، نئی قیمتوں کے تحت پریمیم پیٹرول تقریباً 2 ڈالر فی لیٹر جبکہ عام پیٹرول اور ڈیزل بھی نمایاں طور پر مہنگے کر دیے گئے ہیں۔

تاہم قیمتوں میں اضافے کے باوجود ایندھن کی سپلائی بحال نہیں ہوسکی جس کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، کئی افراد نے بتایا کہ وہ مہینوں سے ایندھن کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور اب انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ پیٹرول کہاں سے حاصل کیا جائے۔

 یہ بھی پڑھیں:ایران کیخلاف فیصلہ کن  کارروائی؟ خفیہ پلان سامنے آگیا

رپورٹس کے مطابق کیوبا کو حالیہ مہینوں میں تیل کی ترسیل نہ ہونے کے برابر ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں ایندھن کی شدید کمی پیدا ہوگئی ہے، صورتحال مزید خراب ہونے کے باعث بلیک مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتیں 8 سے 10 ڈالر فی لیٹر تک پہنچ گئی ہیں جو عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایندھن کی قیمتیں سپلائی، درآمدی لاگت اور عالمی مارکیٹ کے حالات کے مطابق تبدیل کی جا سکتی ہیں، تاہم اس وقت ملک کو شدید ایندھن بحران کا سامنا ہے۔

کیوبا شدید ترین توانائی بحران میں داخل ہو گیا ہے جہاں ملک میں ڈیزل اور فیول آئل کی مکمل قلت نے بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس کو بھی متاثر کر دیا ہے، رپورٹ کے مطابق کیوبا کو 2026 کے دوران تقریباً مکمل طور پر ایندھن کی سپلائی بند رہی، جس کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ملک میں ایندھن کی عدم دستیابی نے نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ توانائی کے بنیادی نظام کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔ کیوبا کے توانائی وزیر نے حال ہی میں تصدیق کی ہے کہ پاور پلانٹس کو چلانے کیلئے درکار ڈیزل اور فیول آئل ختم ہو چکا ہے۔