وٹامن سی قوت مدافعت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ماہرین صحت
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وٹامن سی متعدد جسمانی افعال کے لیے بہت اہم ہے جن میں جسم کے ٹشوز کی مرمت اور مدافعتی نظام کی بحالی بھی شامل ہے۔
انسان کا جسم قدرتی طور پر وٹامن سی پیدا نہیں کرتا اس لیے وٹامن سے بھرپور غذاؤں کا استعمال صحت کے لیے بہت ضروری ہے، کچھ لوگ وٹامن سی کے سپلیمنٹس بھی لیتے ہیں جو فائدہ مند تو ہیں لیکن ان کے کچھ نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔
مریضوں کی دیکھ بھال کا 15 سال سے زائد کا تجربہ رکھنے والی میسوتھیلیوما سینٹر میں رجسٹرڈ نرس شان مارچیز نے اپنے ایک انٹرویو میں روزانہ وٹامن سی کے استعمال کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اس کے اثرات کا خاکہ پیش کیا۔
شان مارچیز نے وضاحت کی کہ وٹامن سی ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو آکسیڈیٹیو تناؤ یعنی چوٹ یا انفیکشن کے بعد دائمی سوزش کا سبب بننے والے فری ریڈیکلز کو بےاثر کرتا ہے۔
وٹامن سی کی روزانہ کی خوراک دیگر اینٹی آکسیڈنٹس کی پیداوار میں بھی مدد کر سکتی ہے جن میں وٹامن ای اور ٹیٹرا ہائیڈرو بائے اوپ ٹیرن شامل ہیں جو جسم کے قدرتی دفاع کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
شان مارچیز نے خبردار کیا کہ وٹامن سی کے سپلیمنٹس ہر کسی کے لیے موزوں نہیں ہیں کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر وٹامن سی کی زیادہ خوراک لینے والوں کے گردے میں پتھری ہونے کا خدشہ 20 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اُنہوں نے بتایا کہ وٹامن سی کے سپلیمنٹس اگرچہ عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے لیکن جسم میں ضرورت سے زیادہ وٹامن سی کی موجودگی معدے میں درد، الٹی، سینے کی جلن اور اسہال جیسے مضر اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔
شان مارچیز نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ وٹامن سی کی زیادہ مقدار کے بعض دواؤں کے ساتھ ملاپ سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اس لیے وٹامن سی کے سپلیمنٹس ڈاکٹرز کے مشورے کے بعد استعمال کرنے چاہئیں۔