دنیا میں پہلی بار وزیراعظم کا ’’سوشل میڈیا‘‘ کے ذریعے انتخاب

Sep 16, 2025 | 08:26:AM
دنیا میں پہلی بار وزیراعظم کا ’’سوشل میڈیا‘‘ کے ذریعے انتخاب
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)دنیا بھر میں حکمرانوں کا انتخاب فزیکل ووٹنگ یا پوسٹل بیلٹ سے ہوتا ہے مگر پہلی بار سوشل میڈیا آن لائن وزیراعظم منتخب کیا گیا ہے۔

دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں عوام اپنے حکمرانوں کا انتخاب براہ راست پولنگ اسٹیشن پر حق رائے دہی (ووٹ) کے استعمال اور پوسٹل بیلٹ کے ذریعہ کرتے ہیں ، تاہم سوشل میڈیا کی بڑھتی مقبولیت کے باعث مستقبل میں سربراہان مملکت کے انتخاب میں بھی سوشل میڈیا کا اہم کردار ہوگا، جس کی ابتدا ایک جنوبی ایشیائی ملک سے ہو چکی ہے۔

یہ ملک نیپال ہے جہاں حال ہی میں ملک بھر میں عوامی احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں صدر، وزیراعظم اور وزرا مستعفی ہو کر ملک سے فرار ہوئے اور اب وہاں سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی عبوری وزیراعظم منتخب ہوئی ہیں۔

سشیلا کارکی نے دو روز قبل اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد اگلے سال مارچ میں عام انتخابات کرانے اور 6 ماہ میں اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کرنے کا اعلان کیا۔

تاہم اس سارے عمل میں سب سے حیران کن پہلو سابق چیف جسٹس سشیلا کارکی کا انتخاب ہے، ان کا عبوری وزیراعظم طور پر تقرر نہیں کیا گیا، بلکہ انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ڈسکارڈ‘‘ کے ذریعہ منتخب کیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سشیلا کارکی کو منتخب کرنے کا فیصلہ نیپال میں انقلاب لانے والے جین زی مظاہرین نے چیٹ ایپ ’ڈسکارڈ‘ پر کیا۔

رپورٹ کے مطابق نیپال میں انقلابی نوجوانوں نے تیزی سے شہرت حاصل کرنے والی چیٹنگ ایپ’ڈسکارڈ‘ پر ایک سرور بنایا جسے ’یوتھ اگینسٹ کرپشن‘ کا نام دیا گیا۔ اس سرور کے ارکان کی تعداد مختصر عرصہ میں ایک لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گروپ بندی کا اعتراف، سیاست کیلئے لوگوں کے بچے نہیں مروا سکتا: علی امین گنڈاپور

اس سرور میں مختلف چینلز قائم کیے گئے۔ ان کے ذریعہ احتجاجی دور میں اعلانات، زمینی حقائق، ہیلپ لائنز، فیکٹ چیکنگ اور خبروں کی اپڈیٹس دی جاتی رہیں اور یوں یہ پلیٹ فارم جین زی تحریک کا کمانڈ سینٹر بن گیا۔

نوجوانوں کے احتجاج کے بعد جب نیپالی وزیراعظم کے پی شرما نے استعفیٰ دیا تو جین زی تحریک نوجوانوں کے اس گروپ نے ملک کی باگ دوڑ خود ہی کسی اہل اور ایماندار کو سونپنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 10 ستمبر کو آن لائن ووٹنگ کرائی۔

اس آن لائن ووٹنگ 7713 افراد نے اپنا ووٹ دیا اور اکثریت نے سشیلا کارکی کے حق میں ووٹ دیا۔

سشیلا کارکی نے 3833 ووٹ حاصل کیے جو مجموعی ووٹ کا تقریباً 50 فیصد بنتا ہے،اس کے بعد رینڈم نیپالی کو 2022 تقریباً 26 فیصد ووٹ ملے۔ ساگر ڈھاکل نے 1098 تقریباً 14 فیصد ووٹ لیے۔

آن لائن انتخاب کے بعد سپریم کورٹ کی سابق چیف جسٹس سشیلا نے صدر رام چندر پاؤڈیل اور آرمی چیف جنرل اشوک راج سگدی سے ملاقات کرنے کے بعد اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور عبوری وزیراعظم کا منصب سنبھالا۔

واضح رہے کہ ’ڈسکارڈ‘ ایک چیٹنگ ایپ ہے جو جیسن سیٹرون اور سٹینسلاف وِشنوسکی نے 2015 میں گیمرز کے لیے تیار کی تھی، جو اب ایک مقبول سوشل پلیٹ فارم بن چکا ہے،یہ ایپ اپنے آسان استعمال، اشتہارات سے پاک فیڈز اور ٹیکسٹ، آڈیو، ویڈیو چیٹس جیسے مختلف ٹولز کی بدولت جنریشن زیڈ میں تیزی سے مقبولیت کے مدارج طے کر رہی ہے۔

دوسری جانب  یہ معاملہ اب تنازعہ کا شکار ہو رہا ہے، سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ’ڈسکارڈ‘ پر یہ سروے کس نے اور کس حیثیت سے کروایا؟ اور ووٹنگ میں حصہ لینے والے افراد کی شناخت کیا تھی، کیونکہ کمپنی اپنے صارفین کا مقام ظاہر نہیں کرتی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لینے کے محض تین دن بعد ہی کارکی کی مخالفت شروع ہوگئی ہے اور مخالفت بھی وہی لوگ کر رہے ہیں، جن لوگوں نے ان کی تقرری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

نیپالی میڈیا کے مطابق سُڈان گُرنگ اور ان کی ٹیم نے اتوار کے روز وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ کارکی من مانے فیصلے کر رہی ہیں، کابینہ کی توسیع کے معاملے پر بھی ان کے خلاف آواز بلند کی گئی ہے۔