افغان طالبان حکومت کا رویہ حماقت کے سوا کچھ نہیں،ان سےہمدردی  کی ضرورت نہیں؛سلیم بخاری

Oct 16, 2025 | 00:32:AM
 افغان طالبان حکومت کا رویہ حماقت کے سوا کچھ نہیں،ان سےہمدردی  کی ضرورت نہیں؛سلیم بخاری
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فرخ احمد)سینئرصحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہےکہ افغان طالبان حکومت کا رویہ حماقت کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا،ان سے کوئی کسی قسم کی ہمدردی  کی ضرورت نہیں ۔

 24 نیوز کے پروگرام ’سلیم بخاری شو‘میں پاکستانی حکومت اور افغان طالبان رجیم کے درمیان طالبان کی درخواست پر باہمی رضامندی سے اگلے 48 گھنٹوں کے لیےعارضی طور پرجنگ بندی پرتجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے 40 سالہ دوستی کو گندے نالے میں پیھنک دیا،لہذا اب ان سے کوئی کسی قسم کی ہمدردی  کی ضرورت نہیں بلکہ جو بھی صوبائی حکومت ہے یا کوئی بھی پاکستان کے کسی علاقے میں ان کے لوگ رہ رہے ہیں ان کو خیر کی کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ جو کچھ اپنی بسا ط کے مطابق پاکستان کے خلاف جو کچھ کر سکتا تھا وہ اس نے کر کے دیکھ لیا اور اس کا جواب بھی پاکستان کی بہادر افواج نے دے کر ان کا منہ بند کر دیا ہے اور اب وہ سیز فائر کی درخواست لیکر وہ آگئے ہیں لیکن انہوں نے ابھی تک سبق نہیں سیکھا۔

سلیم بخاری نے افغان حکام کے ان بیانات  پر کہ ہم نے سوویت یونین  کو بھگا دیا،امریکہ سے ٹکر لی،انہوں نے کہا کہ یہ تو بتائیں کیسے،اسلحہ اور ٹریننگ کس نے دی تھی کس کی مدد سے اپنے نے یہ کیا،انہوں نے مزید کہا  کہ ان کو آئینہ دکھانا بہت ضروری ہے۔

حماس کے ہتھیار ڈالنے کے بعد فلسطینیوں کے حق کی بات کون کرے گا ؟ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے  حماس کو ہتھیار ڈالنے پر  سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ غزہ سے تمام 20 اسرائیلی یرغمالی واپس آچکے ہیں،اب امن معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے،سلیم بخاری نے کہا کہ امریکی صدر یہ تو کہتے پائے جارہے ہیں کہ حماس کو یہ کرنا ہوگا، حماس کو یہ بھی کرنا ہوگا  لیکن کبھی کسی نے سنا ہے کہ انہوں نے کہا  ہو کہ نیتن یا ہو کو یہ کرنا ہوگا، یہ ون سائیڈڈ پابندیاں ہیں  کسی بھی طرح مناسب نہیں ہیں، انہوں نے اپنے پچھلے پروگراموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نیتن یا ہو کے ساتھ شریک جرم ہیں، ان کی مدد اور منشا کے بغیر غزہ میں نہتے مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی کوئی جرات بھی نہیں کر سکتا تھا۔

انہوں نے ٹرمپ کے اسرائیلی پارلیمنٹ  سے خطا ب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود اقرار جرم کیا ہے کہ انہوں نے جدید اسلحہ دیکر اسرائیل کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام کرایا ہے،یہ جو طاقت  کے نشے میں جرائم کیے جارہیں تاریخ ان کو معاف نہیں کرتی بلکہ اس کے نتائج کو کبھی کبھی نہ کبھی  بھگتنا پڑے گا۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ اگر فلسطینوں کی واحد طاقت حماس نے بھی ہتھیار ڈال دیے تو ان کی حفاظت کون کرے گا۔

انہون نے کہا وہ یہ کیسے کریں گےکوئی امریکی صدر کو یہ سمجھائے  وہ2 سال سے جنگ میں تباہ حال لوگوں کے اگے ایسے مطالبات رکھ رہے ہیں،ان کو سانس تو انے دیں ان کو  حالات کا اندازہ تو کرنے دیں،کیا وہ ایسے مطالبات نیتن یاہو یااسرائیل  سے کر سکتے ہیں۔

معاشی اعشارئیے بہتر۔۔۔مہنگائی میں کمی کب آئے گی ؟ 

آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان سٹاف لیول معاہدے کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا شکر ہے کہ اچھی خبریں آنا شروع ہوئی ہیں،انہوں نے آئی ایم ایف کی جانب سےجاری اعلامی کا حوال دیتے ہوئے کہا  پاکستان کامعاشی استحکام بحال ہو رہا ہے،مالی سال 2025 میں 14 سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈکیاگیا،پاکستان کا مالی نظم وضبط پروگرام کےاہداف سےبہتر رہا،افراطِ زرقابو میں،زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ،مارکیٹ اعتماد میں بہتری آئی، پاکستان کی معاشی نمو 3.25 سے 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

سلیم بخاری نے پاکستان اور آئی ایم ایف کےدرمیان  سٹاف لیول معاہدہ طے پاجانے پر اطمینان کا اظہارکیا کہاکہ سٹاف لیول معاہدہ پاکستان کےمیکرو اکنامک اشاریوں میں ہونےوالی بہتری کا عکاس ہے،سٹاف لیول معاہدہ آئی ایم ایف کےپاکستان کی تیزی سےبہتر ہوتی معاشی صورتحال پر اعتماد کا اظہار ہے۔

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی؛ 

سلیم بخاری نے اپنے پروگرام میں عوام کو پیٹرول کی قمیت میں کمی پر کہا کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت میں فی بیرل 2 ڈالر80 سینٹ کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔ انہوں  نے توقع ظاہر کی کہ   اس اقدام سے مسلسل مہنگائی سے نبرد آزما صارفین کو معمولی راحت ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں :  وفاق نہ چاہے تو خیبر پختونخوا حکومت  22 گریڈ کا افسر بھی تبدیل نہیں کر پائیں گے، دانیال چوہدری