آسکرایوارڈز 2026کا میلہ، ون بیٹل آفٹر این ادر بہترین فلم قرار

 فنکاروں نے ایران جنگ کے خلاف آواز اٹھا دی،نوٹوواراورفری فلسطین کے نعرے

Mar 16, 2026 | 10:07:AM
آسکرایوارڈز 2026کا میلہ، ون بیٹل آفٹر این ادر بہترین فلم قرار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ آسکرز کا اعلان کردیا گیا۔
آسکرکوفلمی دُنیاکاسب سے قدیم انٹرٹینمنٹ ایوارڈ قراردیاجاتا ہے جس کی تاریخ کئی دہائیوں پرپھیلی ہوئی ہے،جب 1929ء میں ہالی وُڈ کے روزویلٹ ہوٹل میں محدودپیمانے پر اس ایوارڈ کا پہلی بارانعقاد کیا گیا تو شُرکاء کی تعداد صرف 270 تھی اور15 ایوارڈ تقسیم کئے گئے تھے یہ تقریب بھی پندرہ منٹ جاری رہی تھی۔


اب آسکرفلمی دُنیاکاسب سے بڑا ایوارڈبن چکا ہے اوراس کا حصول ہراداکاراورفنکار کا خواب ہوتا ہے لیکن اس کی تعبیرکسی کسی کے حصّے میں آتی ہے اور وہ گولڈن مجسمہ تھامے خود کودُنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا ہے ،جس فنکار کے نام کے ساتھ آسکریااکیڈمی ایوارڈکا’’ٹیگ‘‘ لگ جاتا ہے اس کے فن کی پُختگی اور بلندی پرایک طرح سے مُہر تصدیق ثبت ہو جاتی ہے۔


امریکی ریاست لاس اینجلس کے شہرہالی وُڈ میں آسکرایوارڈ کی رنگارنگ تقریب منعقد ہوئی جس میں حُسن اور روشنیوں کا خوبصورت امتزاج دیکھنے کومل رہا تھاکیونکہ ہالی وُڈ کا کوئی ہی فنکار ہوگا جواس تقریب میں موجود نہ ہو،جیسے ہی کوئی فنکارریڈکارپٹ پرآتاتوفوٹوگرافرز کے ساتھ ساتھ دیگرلوگ بھی ان کی ایک جَھلک دیکھنے کے لئے آمڈآتے،ہرفنکارآسکرجیتنے کی اُمیدکے ساتھ اس تقریب میں آرہاتھا۔

یہ بھی پڑھیں:معروف اداکارہ سیدہ طوبیٰ انور آئی فون سے ہاتھ دھو بیٹھیں
اس موقع پر’’ون بیٹل آفٹر انادر‘‘ بہترین فلم کا ایوارڈ لے اڑی جبکہ جیسی بکلی بہترین اداکارہ اورمائیکل بی جورڈن بہترین اداکار قرار پائے۔
اوریجنل سونگ کا ایوارڈ میوزک بینڈ  ہنٹرایکس کے گانے گولڈن کو دیا گیا،میوزک بینڈ ہنٹر ایکس نے اس موقع پراسٹیج پر آواز کا جادو جگایا۔

ہسپانوی اداکار جاویئربارڈم وہ پن پہن کر ریڈ کارپٹ پر آئے جو انہوں نے 2003 میں عراق جنگ کے خلاف پہنی تھی،اسٹیج پر ایوارڈزکی تقسیم کے دوران بھی انہوں نے ن’’و ٹو وار‘‘ اور’’ فری فلسطین‘‘ کے نعرے لگائے اور کہا میں نے وہ پن پہنی ہےجو 2003 میں پہنی تھی،جب عراق کےخلاف غیر قانونی جنگ چھیڑدی گئی تھی، 23 برس بعد ہمیں ایک اورغیرقانونی جنگ کاسامنا ہے،جو ٹرمپ اورنیتن یاہو نےجھوٹ کی بنیاد پر شروع کی، میں نے فلسطین کی پن بھی پہنی ہے جو مزاحمت کی علامت ہے،ہم جنگ نہیں چاہتے، اور فلسطین کو آزاد کریں۔