پنجاب کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش، تنخواہوں میں 7 پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پنجاب اسمبلی میں وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے مالی سال 27-2026 کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ ایوان میں پیش کردیا۔
پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی ایوان میں موجود تھیں۔
اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبولؐ اور قومی ترانے سے کیا گیا، اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور ایوان میں داخل ہوتے ہی نعرے بازی شروع کر دی۔
وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر شروع ہوتے ہی اپوزیشن کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا، اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر ڈائس کے قریب، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سامنے جمع ہوگئے اور ’جعلی بجٹ نامنظور، نامنظور‘ کے نعرے لگاتے رہے، جس کے باعث ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی کا ماحول دیکھنے میں آیا۔
اپوزیشن ارکان نے "شرم کرو، حیا کرو، خان کو رہا کرو" کے نعرے لگائے جبکہ ان کے ہاتھوں میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے مطالبے پر مبنی پلے کارڈز بھی موجود تھے۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ایران،امریکا امن معاہدہ پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف امن معاہدے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی امن معاہدے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، نواز شریف کی رہنمائی اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ مشکل حالات میں ملک کو بحرانوں سے نکالا اور موجودہ بجٹ میں صرف آئندہ کے اہداف نہیں بلکہ گزشتہ سال کی کارکردگی کا حساب بھی شامل ہے۔
کفایت شعاری اور مالی نظم و ضبط
وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب حکومت نے مالی نظم و ضبط کی پالیسی کے تحت غیر ضروری اخراجات میں نمایاں کمی کی۔ صوبائی کابینہ اور سیکرٹریز نے 3 ماہ کی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا، جبکہ اراکین اسمبلی کی دو ماہ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی گئی۔ سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فیصد کمی لا کر قومی خزانے کو بچت فراہم کی گئی۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق روزمرہ اخراجات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ مجموعی اخراجات میں صرف 3.1 فیصد اضافہ ہوا ہے، جسے کفایت شعاری پالیسی کا مثبت نتیجہ قرار دیا گیا۔
تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال 2026-27 سے صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے 650 ارب روپے جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی مد میں 505 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے ٹیکس فری بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگیوں کے لیے مجموعی طور پر ایک ہزار 155 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے، تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔